خطبات محمود (جلد 13) — Page 586
خطبات محمود ۵۸۶ سال ۱۹۳۲ء دنیاوی و جاہت حاصل ہو اس طرح بھی تبلیغ کر سکتا ہے کہ ہر روز اس کے گھر جا کر اس کا کوئی کام کر آیا کرے۔بازار سے سودا و غیرہ ہی خرید کر لا دے۔اور چھوٹے موٹے کام کر دے۔اور ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کرتا رہے۔لیکن کسی دنیاوی فائدہ کی توقع نہ رکھے اور اپنے کام کے بدلہ میں کوئی چیز قبول نہ کرے۔حتی کہ اگر پیاس لگے تو پانی بھی اس کے گھر سے نہ پیئے۔اس وقت جب وہ امیر آدمی دیکھے گا کہ یہ بلا معاوضہ صرف دینی جذبہ کے ماتحت میرا کام کر رہا ہے تو ضرور اس پر اثر ہو گا۔وہ کون ہے جس کا کوئی کام ہر روز مفت کر جائے ، معاوضہ کی توقع نہ رکھے اور پھر اسے کام سے ہٹا دے۔اس طرح مسلسل طور پر بااثر تبلیغ کی جاسکتی ہے۔اور بھی بہت سے ذرائع ہیں جن سے ایک غریب آدمی امیر کو تبلیغ کر سکتا ہے۔غریبی اور چھوٹے ہونے کا سوال ہی کیا ہے۔اسلامی و قار خود ایسا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔صحابہ کرام کو دیکھو کس جوش و خروش آزادی اور دلیری سے بادشاہوں کے درباروں میں جاکر تبلیغ کرتے تھے ، حالانکہ اس وقت ان کی کوئی ایسی دنیاوی وجاہت نہ تھی۔غرض ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس طبقہ میں بھی دینی تبلیغ شروع کر دے۔البتہ جن جگہوں پر ہماری جماعت نہیں ہے یا افراد نہیں پہنچ سکتے وہاں تبلیغ پہنچانے کا انتظام مرکز کرے گا۔بہر حال خدا تعالیٰ نے میں نور دیا ہے اور دنیا میں ضلالت اور تاریکی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اس نور کو پھیلا ئیں۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور میں اتنی قوت دے کہ اس نور سے جو اپنے فضل سے اس نے دیا ہے اس ظلمت تاریکی اور گمراہی کو دور کر سکیں جو شیطان نے اس وقت سے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی دنیا میں پھیلا رکھی ہے۔الفضل ۲ اکتوبر ۱۹۳۲ء) البقرة : ١٩٠ بنی اسرآئیل : ۸۵