خطبات محمود (جلد 13) — Page 51
خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۱ء کتنا فائدہ پہنچ سکتا ہے اس لئے احتیاط کے ساتھ دیکھنا چاہئے اور شمار کنندگان کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ ہر ایک احمدی کے نام کے آگے احمدی لکھے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ایک نومولود بچہ بھی بغیر درج ہونے کے نہ رہ جائے۔اگر کسی جگہ شمار کنندگان احمدی لکھنے سے انکار کریں تو گورنمنٹ کو تاریں دینی چاہئیں ہمیں یہاں اطلاع دینی چاہئے ہم اس کے متعلق انتظام کریں گے۔گورنمنٹ نے لاہور میں ایک خاص افسراسی غرض سے مقرر کر رکھا ہے اسے اطلاع دینی چاہئے غرضیکہ شور ڈال دینا چاہئے۔مختصر یہ کہ اس سلسلہ میں جس قدر بھی ممکن ہو کوشش کی جائے۔اول تو ضرورت ہے کہ ہر جگہ پوری پوری مردم شماری کرائی جائے۔اگر بڑے بڑے سو دو سو مقامات پر بھی ہو جائے تو بھی اس امر کا اندازہ کرنے کے لئے کافی ہے کہ سرکاری شمار کنندگان کی رپورٹ کہاں تک بھیج ہے۔اب میں سمجھتا ہوں وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے طور پر ٹھیک ٹھیک مردم شماری کریں۔لیکن اب جو موقع پیدا ہوا ہے اس سے بھی ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی احمدی درج ہونے سے نہ رہ جائے کیونکہ جماعت کے زیادہ ہونے سے ہر احمد ی کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ تمام جماعتیں مردم شماری کی طرف خاص توجہ کریں گی۔اور اگر ہم گورداسپور اور سیالکوٹ صرف دو ضلعوں کی مردم شماری ہی پوری طرح کرا کر یہ بتادیں کہ انہیں دو اضلاع میں ہماری جماعت ہیں پچیس ہزار سے بہت زیادہ ہے۔تو باقی اضلاع میں اگر ناقص طور پر بھی مردم شماری ہو گی تو اسی سے حکومت سمجھ سکتی ہے کہ تمام ہندوستان میں جماعت کی تعداد بہت زیادہ ہے۔پس اس کے لئے پوری پوری کوشش کی ضرورت ہے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہم پوری طرح کام نہیں کر سکتے۔اور چونکہ سب مقامات پر یہ انتظام نہیں ہو سکے گا اس لئے ہم کیوں تکلیف اٹھا ئیں بلکہ جو دوست جس قدر کام کر سکتے ہوں کریں کیونکہ اگر چند مقامات پر بھی ٹھیک ٹھیک مردم شماری ہو جائے تو وہ بھی اندازہ لگانے کے لئے کافی ہوگی مگر اصل چیز تبلیغ ہے اور پورے طور پر اس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے فتح ہمارے قدموں پر پڑی ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ایک دفعہ پورے زور سے دھاوا بول دیا جائے۔خدا تعالی کے فضل سے جماعتیں ہر جگہ پھیل چکی ہیں صرف ایک نعرہ کی دیر ہے اور دنیا کی فتح ہمارے آگے ہے۔دوسرے مسلمان بہت مست ہو رہے ہیں اور دوسری قومیں ان کو ڈرا دھمکا رہی ہیں۔تم دیکھ رہے ہو کہ سکھ کس طرح ہر جگہ مسلمانوں کو دباتے جارہے ہیں اور گورنمنٹ بھی ان کے سامنے