خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔ہر شہر میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔ہر ملک میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔اور ہر قوم میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔پھر بھی اللہ تعالیٰ کا انہیں مبعوث کرنا بتاتا ہے کہ انسانی عقل راہنمائی کے لئے کافی نہیں۔اگر انسانی عقل ہی کافی ہوتی تو ایسی صورت میں انبیاء دنیا میں کبھی مبعوث نہ ہوتے۔پس ایک طرف جب ہم اس فتنہ پر نگاہ دوڑاتے ہیں جو انبیاء کے آنے کے ساتھ دنیا میں پیدا ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ہم انبیاء کے تواتر اور تسلسل کو دیکھتے ہیں تو لازماً ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وحی الہی اپنے ساتھ کوئی ایسی زائد چیز رکھتی ہے جسے ہم بغیر وحی کے حاصل نہیں کر سکتے۔انہیں چیزوں میں سے میں اس وقت ایک موٹی چیز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ عقل کی بنیاد جذبات پر نہیں ہوتی۔بلکہ اس کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے اور دلیل جذبات کو دباتی ہے بڑھاتی نہیں۔جتنا جتنا کسی امر میں دلیل کا غلبہ ہوتا جائے گا اتنا ہی اس امر میں محبت کا پہلو کم ہو تا چلا جائے گا۔اور جتنی جتنی عقل کی اتباع کی جائے گی اتنے ہی جذبات کمزور ہوتے چلے جائیں گے۔لیکن اس کے مقابلہ میں جتنا جتنا جذبات ترقی کریں گے اتنا ہی عقل کا پہلو کمزور ہو تا جائے گا۔یہاں تک کہ جذبات ترقی کر کے بعض دفعہ ایسی صورت اختیار کرلیں گے کہ وہ عقل کا دروازہ بالکل بند کر دیں گے۔چنانچہ کئی مائیں محض جذبات کے غلبہ کی وجہ سے اپنے بچوں کے متعلق ایسی باتوں پر آمادہ ہو جاتی ہیں جو صریح طور پر ان کے لئے نقصان رساں ہوتی ہیں۔لیکن جذبات کا غلبہ عقل کے اس پہلو کو کمزور کر دیتا ہے۔ہر جگہ وہ عقل سے کام لیں گی لیکن جہاں اپنے بچہ کے متعلق سوال پیدا ہو گا رہ جائیں گی کیونکہ محبت کی بے جا زیادتی انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔بڑی بڑی عقل اور فہم و فراست والے لوگوں کے متعلق بھی دیکھا جاتا ہے کہ جہاں ان کے دوستوں اور عزیزوں کے متعلق کوئی سوال پیدا ہوتا ہے ، وہاں ان سے کو تاہی ہو جاتی ہے۔وہ ساری دنیا کو عقل سکھائیں گے۔ساری دنیا کو فہم و فراست کا سبق دیں گے لیکن اپنے دوستوں اور عزیزوں کے متعلق اپنا ہی دہرایا ہوا سبق بھول جائیں گے۔ان کے جذبات ان کی عقل پر غالب آجائیں گے۔اور وہ رعائتیں کریں گے۔بے انصافی شروع کر دیں گے اور اس امر کو بالکل فراموش کر دیں گے کہ نا انصافی اور بے جار عائتیں ہی دنیا کو تباہ کرتی ہیں۔پس عقل اور جذبات ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ہاں ان دونوں کو جمع کرنے والی ایک زائد چیز ہے اور وہ وحی الہی ہے۔خالی عقل کبھی دنیا میں کامیاب نہیں کر سکتی۔اسی طرح خالی جذبات دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کر سکتے۔یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں۔اور یہ دونوں آپس میں کبھی نہیں مل سکتیں۔جس طرح آگ اور پانی