خطبات محمود (جلد 13) — Page 358
خطبات محمود ۳۵۸ سال ۱۹۳۲ء نہ ڈرو بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ انگریزی حکومت سے بھی قطعا نہ ڈرو کیونکہ جو کسی حکومت سے بھی ڈرتا ہے وہ بھی مشرک ہے اور ہر گز ہرگز بخشش کے قابل نہیں۔مجھے اس بات کا سخت افسوس ہے کہ احراریوں کی طرف سے پچھلے دنوں مخالفت اور ہمارے خلاف شرارت کی جو رو پیدا کی گئی اس میں بعض لوگوں نے باوجود توجہ دلانے کے بزدلی کا اظہار کیا حالانکہ یہ سلسلہ کی عزت اور وقار کی حفاظت کا سوال تھا۔ان لوگوں کی طرف سے ماتمی جلوس نکالے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ناپاک گالیاں دی گئیں اور طرح طرح کی شرارتوں سے کام لیا گیا۔لیکن ہماری جماعت کے بعض لوگ خاموش رہے۔حالانکہ چاہئے تھا کہ ان دنوں میں تبلیغ کو اور زیادہ کر دیتے اور دشمنوں پر ثابت کر دیتے کہ ہم کسی کے ڈر یا خوف کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے نام کو ترک نہیں کر سکتے۔اور جتنی زیادہ شرارت ان کی طرف سے ہوتی اتناہی زیادہ ، سباب جماعت کو تبلیغ میں کوشش کرنی چاہئے تھی۔مگر افسوس کہ بعض دوستوں نے اس موقع پر اچھا نمونہ نہیں دکھایا۔راولپنڈی میں بھی بہت شور تھا۔مگر وہاں کی جماعت نے اچھا نمونہ پیش کیا۔لیکن جہلم کی جماعت کے ایک حصہ نے بزدلی دکھائی۔اور سیالکوٹ میں بھی بعض لوگوں نے بزدلی سے کام لیا۔مومن کا کام یہ ہے کہ جس قدر دشمن شرارت میں بڑھے وہ بھی اپنے مشن کو پھیلانے کے لئے اپنی کوششوں کو بڑھائے۔جب وہ ماتمی جلوس نکالیں ہر احمدی کو چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام زیادہ جوش کے ساتھ پہنچانا شروع کر دے۔تا ان کو معلوم ہو سکے کہ ہم کسی سے مرعوب ہونے اور دبنے والے نہیں ہیں۔ان جماعتوں کا فرض تھا کہ ان دنوں بازاروں اور گلی کوچوں میں دیوانہ وار مصروف تبلیغ رہتے۔انکے سر سے خون بہہ رہا ہو تا بدن لہولہان ہوتا اور ہڈیاں چور چور ہوتیں مگر وہ برابر تبلیغ سلسلہ میں مصروف نظر آتے۔اور اس طرح دشمنوں پر ثابت کر دیتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلوان بزدل نہیں ہیں اگر پہلے سر پر پگڑیاں رکھ کر تبلیغ کرتے تھے تو ان دنوں ضرار کی طرح ننگے سر نکلتے۔لیکن اگر وہ پہلے واقف نہ تھے تو آج سن لیں کہ انہیں ایسا نمونہ دکھانا چاہئے۔تاخد اتعالیٰ کے کے وارث ہو سکیں۔مؤمن کو ہرگز کسی سے نہیں ڈرنا چاہئے اور ہر گز یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہئے کہ کانگرسی زور والے ہیں۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے حقوق کے حصول کا سوال ہے۔جہاں ہمارا یہ فرض ہے کہ قیام امن کے لئے حکومت کو مدد دیں خواہ وہ ہمارے ساتھ کچھ کرے اور اس خیال سے دیں کہ یہ خدا کا حکم ہے وہاں یہ بھی فرض ہے کہ مسلمانوں کی بھی خدمت فضلوں