خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 280

خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۱ء ہے مگر وہاں پچیس پچیس سال سے لوگ کوششیں کرنے کے باوجود ناکام رہے ہیں اور انہیں اتنی اجازت نہیں ملی کہ وہ اخبار کے ذریعہ اپنے خیالات دو سروں تک پہنچا سکیں۔آج کل ہندوستان میں ہم وغیرہ کے واقعات کی وجہ سے گورنمنٹ نے اخبارات کے لئے بعض پابندیاں اور شرائط عائد کر دی ہیں مگر پھر بھی سارا ملک ان پابندیوں کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے حتی کہ ہم لوگ بھی جو گورنمنٹ کے خوشامدی کہلاتے ہیں ان پابندیوں کو نا پسند کرتے ہیں۔پھر ہمارے ملک میں پنچائتیں ہوتی ہیں ، تمام پیشہ ور اقوام کی انجمنیں ہیں، دھوبیوں کی انجمن ہے ارائیوں کی انجمن ہے، قصائیوں کی انجمن ہے، کہیں جلاہوں کی پنچائت ہو رہی ہے تو کہیں تاجروں کی ، پھر پیشہ وروں کے علاوہ سیاسی فرقوں کی بھی پنچائیں ہوتی رہتی ہیں، تعلیمی شوق رکھنے والوں کی بھی پنچائتیں ہیں ،یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کے لئے بھی انجمنیں قائم کی جاتی ہیں مگر یہ عجیب بات ہے کہ کشمیر میں انجمن بنانے کی بھی اجازت نہیں بلکہ اگر چار یا پانچ اشخاص مل کر کہیں کہ آؤ ہم تیموں کی پرورش اور ان کی نگہداشت کے لئے انجمن بنا ئیں تو اس کے لئے بھی انہیں گورنمنٹ سے اجازت لینی پڑتی ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گورنمنٹ روک دیتی ہے اور اپنی کسی انجمن کو قائم ہونے نہیں دیتی۔یہ انسانی زندگی نہیں بلکہ حیوانی زندگی ہے۔گویا ایک اشرف المخلوق انسان کو ایسی قیود کے ذریعہ جانوروں ، بیلوں ، گھوڑوں اور گدھوں کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا اور فطرت انسانی کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ فطرت جو ہم نے پیدا کی اسے تبدیل کرنے کا کسی کو اختیار نہیں اور نہ کسی کا یہ حق ہے کہ کسی انسان کو انسانیت سے حیوانیت میں تبدیل کر دے۔پس جب یہ کسی کا اختیار نہیں کہ وہ فطرت انسانی کو تبدیل کرے تو یقیناوہ گورنمنٹ جو فطرت انسانی کو تبدیل کرنا چاہتی ہے وہ انسانیت پر ہی نہیں بلکہ مذہب پر بھی حملہ کرتی ہے اور ان حالات میں ہر شخص کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ایسے مظلوم اور ستم رسیدہ انسانوں کی امداد کرے پس یہ ہرگز صحیح نہیں کہ معاملہ کشمیر ایک سیاسی تحریک ہے بلکہ یہ ایک انسانی ہمدردی کی تحریک ہے اور انسانی ہمدردی مذہب کا جزو ہے۔مگر علاوہ اس کے اور بھی بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کے ماتحت اس تحریک میں حصہ لینا ضروری ہو جاتا ہے مثلاً اب مسلمانوں کی حالت ایسی ہونے والی ہے کہ اگر آج دنیا کے تمام مسلمان اپنے اندر اتحاد کی صورت پیدا نہیں کریں گے اور دشمنوں کے منصوبوں کا یک جہتی سے مقابلہ نہیں کریں گے تو بالکل ممکن ہے کل ایسی حالت پیدا ہو جائے کہ ہندوؤں کی طاقت انہیں کچل کر رکھ