خطبات محمود (جلد 13) — Page 207
محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۱ء نہیں سکتا۔میری اگر ایک چیز ہے اور میں اسے دینے کا وعدہ ایک شخص سے کر چکا ہوں تو دو گھنٹہ بعد اگر کسی اور کو دینے کا وعدہ کرلوں اور پھر کہوں کہ میں اسے کیسے تو ڑ دوں تو یہ نا معقول بات ہے۔دوسرا وعدہ تو وعدہ ہو ہی نہیں سکتا جب کسی اور کو دینے کا وعدہ پہلے کیا جا چکا ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص اللہ تعالٰی کو سارے حقوق دے دیتا ہے تو اس کے باقی تمام وعدے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع ہو جائیں گے۔اور اگر وہ پہلے عہد کے خلاف کوئی بات کرتا ہے تو وہ معاہدہ کہلاہی نہیں سکتا۔اصل دوستی مومن کی اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے باقی باتیں سب اس کے تابع ہیں اور انہیں اس پر قربان کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی کی دوستی یہ نہیں کہ وہ خود دنیا میں آئے اور انسان سے تعلق پیدا کرے اس کی دوستی یہی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ جو جماعت کی اصلاح کا کام کرتے ہیں وہ خواہ نبی ہوں یا غیر نبی ، خلیفہ ہوں یا غیر خلیفہ مامور ہوں یا غیر مامور ان سے دوستی کی جائے۔ایک جگہ اگر ایک شخص کی کوشش سے چند ایک لوگوں کو ہدایت ہو جاتی ہے تو گو وہ نہ خلیفہ ہے اور نہ پریذیڈنٹ یا سیکرٹری مگر اس جگہ وہ خدا کا نمائندہ ہے بلکہ جہاں کوئی مومن نہ ہو وہاں غریب اللہ تعالیٰ کا دوست ہے۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے پھر وہ بائیں طرف والوں سے کہے گا اے ملعونو! میرے سامنے سے اس ہمیشہ کی آگ میں چلے جاؤ جو ابلیس اور اس کے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔کیونکہ میں بھو کا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔پیاسا تھا تم نے مجھے پانی نہ پلایا۔پر دیسی تھا تم نے مجھے گھر میں نہ اتارا - نا تھا تم نے مجھے کپڑا نہ پہنایا۔بیمار اور قید میں تھا تم نے میری خبر نہ لی۔تب وہ اسے جواب میں کہیں گے اے خداد ند ا ہم نے کب تجھے بھو کا یا پیا سایا پر دیسی یا ننگا یا بیمار یا قید میں دیکھ کر تیری خدمت نہ کی۔اس وقت وہ ان سے جواب میں کہے گا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں چونکہ تم نے ان سب چھوٹوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ نہ کیا اس لئے میرے ساتھ نہ کیا۔اور یہ ہمیشہ کی سزا پائیں گے۔مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی۔" تو جس جگہ ایمان کا سوال نہ ہو وہاں غریب ہی خدا کا دوست ہو تا ہے اور اسی سے تعلق خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے۔پس مومنوں کو چاہئے کہ اپنی دوستیوں کو کسی اصول کے ماتحت رکھا کریں اس کے بغیر دوستی نہیں بلکہ دشمنی ہے اور ایسا شخص قیامت کے دن کے گا کاش ! یہ میرا دوست نہ ہو تا۔تانہ مجھے تباہ کرتا اور نہ خود تباہ ہوتا۔(الفضل ۲- جولائی ۱۹۳۱ء)