خطبات محمود (جلد 13) — Page 206
خطبات محمود ۲۰۶ سال ۱۹۳۱ء ظلم کرو۔اسے بھی اس سے رو کو۔اگر تم ایسا نہیں کرتے تو اسے تباہ کرتے ہو۔پر صحیح دوستی رہی ہے جو سمجھ اور عقل سے ہو۔اگر انسان دیکھے کہ اس کا دوست فتنہ و فساد اور منافقت کی راہوں پر چلتا ہے تو اس کا فرض ہے اس سے اسے رو کے مگر میں افسوس سے دیکھتا ہوں کہ کئی ایک ایسے لوگ ہیں کہ اگر انہیں شیطان سے دوستی کا موقع نہ ملتا تو ایسی حالت میں مرتے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے فرشتے لمبے ہاتھ کر کے ان کا استقبال کرتے بعض دوستوں کی بیچ کے لئے تباہ ہو گئے۔ایک شخص کا کسی سے جھگڑا ہوا اس کے ایک دوست نے ناحق دوستی ادا کرنے کے دھوکا میں اس جھگڑے میں خوب حصہ لیا۔وہ پہلا شخص تو اپنی فطرتی نیکی کی وجہ سے تو بہ کر کے پھر اپنی جگہ پر آگیا مگروہ دوست جس نے اس کی خاطر اس میں حصہ لیا تھا مرتد ہو گیا۔پس یا د رکھو دوستیاں جہاں اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہیں وہاں بعض اوقات تباہی و بربادی کا موجب بھی ہو جاتی ہیں اس لئے دوستوں کو ہمیشہ چاہئے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ دوستی تقویٰ اور سلسلہ کی خدمات کا موجب ہو نہ کہ راہ حق و صداقت سے دور لے جانے کا باعث۔انسان بعض اوقات دوست کی حمایت کر کے نقصان اٹھالیتا ہے اور کبھی دوست اسے تباہ کر دیتا ہے۔انسان کی دوستی ایک عارضی شے ہے اصل دوستی اللہ تعالیٰ سے ہی ہے۔وہ بے شک ہمارا خالق ہے اور ہم اس کی مخلوق ہیں۔لیکن جب وہ خود فرماتا ہے کہ اللہ تعالٰی ہی مومنوں کا ولی ہے تو جو انعام اس نے خود ہمیں دیا ہے باوجود یکہ ہم اس کے مستحق نہیں مگر اس کی عنایت کو ہم رد بھی نہیں کر سکتے پس یہ خطاب ہے جو اللہ تعالی کی طرف سے مومنوں کو دیا گیا ہے۔یہ اس لئے فرمایا کہ اسلام نے دوستی پر اتنا زور دیا ہے کہ ممکن تھا بعض لوگ اسی کی وجہ سے تباہ ہو جاتے اس لئے اس کی صراحت کردی کہ مومنوں کا اصل دوست اللہ تعالیٰ ہی ہونا چاہئے۔الیکشن وغیرہ کے موقع پر بعض لوگ لکھتے ہیں ہم اپنے فلاں دوست کو ووٹ دینے کا وعدہ کر چکے ہیں اب اس وعدے کو کیسے تو ڑ سکتے ہیں۔میں ہمیشہ ایسے لوگوں کو یہی جواب لکھوایا کرتا ہوں کہ تمہاری اصل دوستی اللہ تعالیٰ سے ہے۔انبیاء کی جماعت حزب اللہ ہوتی ہے اور جو شخص اللہ تعالٰی سے کوئی عہد کرتا ہے وہ گویا اس جماعت سے کرتا ہے۔اور جس طرح ایک شخص اگر کسی کا دوست ہو تو اس کے بیوی بچوں ، بھائی بہنوں ماں باپ سب سے ہی وہ خیر خواہی کرتا ہے۔اسی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ سے دوستی کرتا ہے وہ اس کے حزب سے بھی کرتا ہے۔پس جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں مومن ہوں اس کا پہلا عبد اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے اور اس عہد کی موجودگی میں وہ کسی اور سے عہد کرہی