خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 202

خطبات محمود ۲۰۲ سال ۱۹۳۱ء پہلے ان مٹکوں کو تو ڑو اور پھر پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔کجا یہ اثر اور کجا یہ کہ پکٹنگ ہو رہی ہے، شرابیوں کی منتیں کر رہے ہیں ، لوگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر شراب خانوں سے علیحدہ کر رہے ہیں، جہاں بس چلے وہاں مارتے ہیں، عورتوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے جو تیاں چلتی ہیں مگر شرابی ہیں کہ شراب پیئے جا رہے ہیں۔عرب کی تاریخ پر غور کر کے دیکھ لو اور عیسائیوں سے گواہی لے لو معلوم ہو جائے گا کہ عرب میں جس قدر شراب پینے کا رواج تھا اس کا نتواں حصہ بھی ہندوستان میں نہیں۔مگر م م م ایک لفظ اور آپ کا ایک اشارہ وہ کام کر جاتا ہے جو آج دنیا کی متحدہ جد وجہد بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔پس رسول کریم میں تعلیم کے مقابلہ میں گاندھی جی کی قوت قدسیہ کا تو ذکر ہی کیا۔جب گاندھی ارون معاہدہ ہوا تو نو جوانوں نے شروع شروع میں کہہ دیا کہ ہم اس بارے میں گاندھی جی کی بات نہیں مانتے۔مگر محمد من ال سلیم نے بالمقابل طاقتوں سے وہ وہ معاہدات کئے کہ لوگوں کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتے تھے لیکن جب آپ فرماتے کہ یہ میرا حکم ہے تو معا تمام جوش دب جاتے اور کچھ فتنہ پیدا نہ ہوتا۔حدیبیہ کے مقام پر مسلمانوں کے دل اس وقت ٹکڑے ہو رہے تھے جب کہ انہیں حج سے روکا گیا تھا۔اور ان کی تلواریں میانوں سے باہر نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ اگر انہیں ذرا بھی اشارہ ہو جائے تو مکہ کے دشمنوں کو کاٹ کر رکھ دیں اور بزور حج کرلیں۔مگر رسول کریم میں اللہ اسی جگہ حج کی قربانی کرتے اور حجامت بنوا لیتے ہیں۔یہ دیکھتے ہی تمام لوگ اس طرح قربانیاں کرنے کے لئے دوڑتے اور حجامتیں بنواتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے نہ انہیں اپنی ندامتوں کا خیال رہا نہ شرمندگی کا دل میں کچھ احساس رہا۔سب باتیں دور ہو گئیں اور صرف ایک ہی مقصد ان کے سامنے رہ گیا کہ رسول کریم می و علوم کی تقلید میں قربانیاں کرو اور سرمنڈاؤ- پس رسول کریم میں تعلیم کی جو قوت قدسیہ تھی اور آپ کے شاگر دان خاص کو جو اللہ تعالیٰ نے شان عطا فرمائی تھی وہ نرالی رنگ کی ہے۔اگر آج ہندوستان کو حکومت مل جائے تو گاندھی جی کا کیا کام رہ جائے گا مگر محمد میل کا نام ابد تک رہنے والا ہے اور ہمیشہ آپ کی غلامی کا دم بھرنے والے لوگ موجود رہیں گے۔پس گاندھی جی کا رسول کریم من و مال کے مقابل میں ذکر کرنا نہایت نا سمجھی کی بات ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کے اندر ذرہ بھر بھی شرافت ہو گی اور وہ اس بات پر غور کرے گا جو میں نے بیان کی ہے تو وہ یقینا اپنے دل میں اس بات پر شرمندگی محسوس کرے گا۔(الفضل ۲۵- جون ۱۹۳۱ء)