خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 173

خطبات محمود 14 سال ۱۹۳۱ء السلام کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آئے۔یہ وہ قربانی تھی جس نے اسماعیلی نخل کو ہلاکت سے بچالیا۔ہماری جماعت کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں دوحة إسْمَاعِيلَ كمم کر پکارا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ بھی اسماعیلی سلسلہ ہے اور اس کے ساتھ بھی کہہ دشمنوں کا اسی طرح سلوک ہو گا جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ اس کے بھائیوں کا تھا۔مگر جس طرح حضرت اسماعیل کو خود ابتلاء میں ڈال کر خدا نے دشمنوں کے ابتلاؤں سے بچالیا اسی طرح خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو خود ہی ابتلاؤں میں ڈال کر ہلاکت اور دوسروں کے حملوں سے محفوظ کرلے گا۔پس خدا تعالیٰ نے جس طرح حمل کے وقت میں پھر رضاعت اور طفولیت کے ایام میں دشمنوں کے حملوں سے ہماری جماعت کو محفوظ رکھا اسی طرح جب جماعت اپنی جوانی کو پہنچی اور دشمنوں کی تلوار نے اسے ہلاک کرنا چاہا تو اس وقت بھی خدا نے اس کی حفاظت فرمائی اور دشمنوں کو ناکام رکھا۔پھر وہ وقت آیا جب جماعت احمدیہ اپنے کمال کو پہنچی اور ان ابتلاؤں میں سے گزری جو اس کے لئے مقدر تھے۔چنانچہ پہلے وہ ابتلاء آیا جسے مسیحیت کا ابتلاء کہنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے آپ کو بتایا تھا کہ آپ مسیح موعود ہیں مگر وہ مسیح نہیں جو صلیب پر لٹکایا جائے بلکہ وہ جو اس لئے آیا ہے کہ صلیب کو توڑے اور دجالی فتن کو پاش پاش کر دے۔اس میں خدا نے یہ پیشگوئی مخفی رکھی تھی کہ جب جماعت اپنی ۳۳ سالہ عمر کو پہنچے گی جو مسیح موسوی کی ایک خاص وقت کی عمر تھی تو عیسائیت کی صلیب کو تو ڑ دیا جائے گا۔یہ کام خدا نے میرے سپرد کیا کیونکہ پورے ۳۳ سال بعد جب وہ زمانہ آیا جو صلیبی رفتن کو تو ڑ دینے والا تھا تو اس زمانہ میں خلافت کے مقام پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہوا تھا اور میرے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اسلام کی مدد کر رہا تھا۔پھر جماعت کی روحانی بلوغت کاملہ کا زمانہ بھی میرے ہی زمانہ خلافت میں آیا۔یعنی آج ہماری جماعت کو پورے چالیس سال ہو گئے۔گویا جس طرح مسیحیت کا زمانہ میری خلافت میں آیا اسی طرح بلوغت کاملہ یعنی اسدہ کے پہنچنے کا زمانہ بھی خدا نے میرے ساتھ وابستہ کر دیا۔پس آج ہماری جماعت جتنا بھی خوش ہو اس کا حق ہے اور جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے کم ہے کیونکہ آج ہماری جماعت کو قائم ہوئے چالیس سال ہو گئے اور آج وہ روحانی بلوغت اسے حاصل ہو گئی جو چالیس سال گزرنے کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔آج سے چالیس سال پہلے ہماری جماعت کی کیا حالت تھی۔اس کا وہی لوگ اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ زمانہ دیکھا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے