خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 138

خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۳۱ء کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ اسے تباہ نہیں ہونے دے گا۔اس کے ساتھ ہی دوستوں کو چاہئے قوت عملیہ کو مضبوط کریں اور اپنے اندر قربانی کا مادہ پیدا کریں کیونکہ جب تک کسی قوم کے اندر قربانی کی روح پیدا نہ ہو اس پر خدا کے فضل نازل نہیں ہو سکتے۔فضل حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ قربانی ہی ہے مگر قربانی جرات اور دلیری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔بزدل آدمی کبھی قربانی نہیں کر سکتا۔قربانی کے لئے ضروری ہے کہ انسان مصائب اور مشکلات کا اپنے آپ کو عادی بنائے اسی لئے شریعت نے نماز تہجد اور روزہ کا حکم دیا ہے جس سے انسان کو اپنے آرام کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔زکوۃ کا حکم دیا ہے جس سے مال کی قربانی کا سبق دینا مقصود ہے اور حج کا حکم دیا ہے جو عزیز و اقرباء اور وطن کی قربانی ہے۔ان احکام کے ذریعہ شریعت نے بتایا ہے کہ اگر ترقی کرنا چاہتے ہو تو اپنے آرام و آسائش، عزیز و اقرباء، مال وطن غرضیکہ ہر چیز کی قربانی کے لئے تیار ہو جاؤ۔یہ احکام گویا اصل تیاری کے لئے ایک مشق رکھی گئی ہے اور بتایا ہے کہ بغیر مشق کے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ایمان بے شک انسان کو آگے لے جاتا ہے مگر پھر بھی تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم امن کے زمانہ میں بھی صحابہ کرام کے دوستانہ مقابلے کرا دیا کرتے تھے۔جن میں تیراندازی اور دوسرے فنونِ حرب اور قوت و طاقت کے مظاہرے ہوتے تھے۔اور حدیث میں آتا ہے اسی قسم کے کھیل آپ نے مسجد میں بھی کرائے اور حضرت عائشہ ان سے فرمایا اگر دیکھنا چاہو تو میرے پیچھے کھڑی ہو کر کندھوں کے اوپر سے دیکھ لو۔نادان کہتے ہیں یہ حدیث غلط ہے کیونکہ اس سے رسول کریم میں ہلالی پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کھیل دیکھتے تھے حالانکہ یہی وہ خوبی ہے جسے چھوڑ کر مسلمان آج تباہ ہو رہے ہیں۔اسلام نے ہر وقت ہوشیار اور دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی عورت کو بھی بزدلی سے بچانا چاہا ہے۔ہندوستان میں مغلیہ حکومت کی تباہی میں عورت کی بزدلی اور مرد کے دل میں عورت کی بے جا محبت کا بہت دخل ہے۔غدر کے زمانہ میں انگریزوں کے ہمدردوں نے جب دیکھا کہ باغی فوج نے ایک ایسے مقام پر تو پیں رکھی ہیں جہاں سے صاف انگریزی فوجوں پر زد پڑتی ہے اور وہ تباہ ہو جائیں گی تو انہوں نے زینت محل کو جو بادشاہ کی چہیتی بیوی تھی مگر اس خیال سے کہ میرا بیٹا تخت نشین ہو انگریزوں سے بھی ساز باز رکھی تھی گو اس وقت تخت اور بادشاہت برائے نام ہی تھی مگر پھر بھی اسے خواہش تھی کہ میرا بیٹا اسے حاصل کرے یہ پیغام بھیجا کہ اگر کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہو تو یہاں سے تو پہیں اٹھوا دو کیونکہ وہ جگہ انگریزی فوجوں کے لئے نہایت خطرناک ہو سکتی