خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 137

خطبات محمود ۱۳۷ سال ۱۹۳۱ء ہونے سے پہلے ان کے پیش خیمے اور ہر اول ہوتے ہیں۔یہی حال سلسلوں کی ترقی کا ہے۔جب خدا تعالی کسی قوم کو ترقی دینے لگتا ہے تو ایسے تغیرات پیدا کرتا ہے جن سے پتہ لگتا ہے کہ اب اس کے فضلوں کی بارش ہوگی۔اور جس طرح دھوپ میں یکدم بارش نہیں ہونے لگتی اسی طرح بغیر آثار کے کسی قوم کو بھی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر خدا کے فضلوں کے آثار نہیں ، اس کی آواز میں باتوں میں ، خیالات میں خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والے آثار موجود نہیں تو وہ کس طرح امید کر سکتا ہے کہ اس کے لئے خدا کے فضل آرہے ہیں۔اسے چاہئے پہلے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے اور پھر خدا کا فضل ڈھونڈے۔پہلے استغفار کرے اور دعاؤں میں لگا ر ہے اور جب اس میں کامیاب ہو جائے تو پھر امید رکھے کہ خدا کے فضلوں کا مورد بننے والا ہے۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اول تو مومن کو ہر حالت کے لئے ہی یہ حکم ہے خُذُوا حِذْرَكُم ۳۔کہ اپنی حفاظت کا سامان اپنے پاس رکھو مگر خصوصاً ان حالات میں جن سے ہمار ا ملک اس وقت گذر رہا ہے اور جب ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں جن کے ہوتے ہوئے سخت احتیاط اور بیداری کی ضرورت ہے تو ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھے اور کوئی قدم نہ اٹھائے مگر اس کے ساتھ ایک نیا علم حاصل کر رہا ہو جو اسلام اور سلسلہ کے لئے مفید ہو۔پھر اگر اسے کوئی ایسی بات معلوم ہو جو کسی قومی مسئلہ سے تعلق رکھتی ہو تو چاہئے کہ اسے ان لوگوں تک پہنچائے جن کے سپر د اجتماعی اور اشتراکی کام ہیں۔دشمن کے مقابلہ کے لئے پیشتر سے تیار رہنا چاہئے۔جو شخص یہ انتظار کرتا ہے کہ دشمن جب گھر پر حملہ کرے گا تو اس کا مقابلہ کرلوں گا وہ بیوقوف ہے۔اگر یہ معلوم ہو جائے کہ دشمن کیا ارا دے کر رہا ہے تو مقابلہ آسان ہو جاتا ہے۔پس ہمارے احباب کا یہ بھی کام ہونا چاہئے کہ اپنے مذہبی اور سیاسی مخالفین کی خبر رکھیں کہ وہ ہمارے یا اسلام کے یا ملک کے امن و امان کے خلاف کیا مشورے کرتے ہیں کیا ارادے رکھتے ہیں اور ان کی کیا رائے ہے اور پھر یہ معلومات مجھ تک یا سلسلہ کے ذمہ دار کارکنوں تک پہنچا ئیں۔پھر یہ بھی ان کا فرض ہے کہ استغفار اور دعائیں کرتے رہیں ، تاکہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے رستہ میں ہماری کمزوری روک نہ ہو۔اگر ہم استغفار کرتے رہیں تو اس طرح ہماری کمزوری پر پردہ پڑ جائے گا کیونکہ جب انسان استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے عفو سے کام لے کر اس کی کمزوریوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔نام میں بے شک کمزوریاں ہیں مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ ہم جس کام کے لئے کھڑے ہوئے ہیں وہ بہت قیمتی ہے اور اگر ہم استغفار