خطبات محمود (جلد 13) — Page 3
خطبات محمود 1 نئے سال سے فائدہ اٹھاؤ (فرموده ۲- جنوری ۱۹۳۱ء) سال تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- جلسہ کے ایام سے پہلے ہی مجھے نزلہ کی شکایت تھی مگر وہ بند تھا۔کل سے یہ تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اور میں نماز میں بھی نہیں آسکا تھا اس لئے آج میں اختصار کے ساتھ احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعالٰی نے ایک نیا سال عطا کیا ہے اور موقع دیا ہے کہ اس سے فائدہ اٹھا ئیں۔نئی جماعت کے قائم کرنے کا منشاء ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلی سے بڑھ جائے جب کسی طالب علم کو آٹھویں جماعت میں ترقی دی جاتی ہے تو غرض اس سے یہی ہوتی ہے کہ وہ ساتھ میں سے بڑھ جائے اور دسویں والا نویں سے بڑھ جائے۔پس اللہ تعالٰی کے اپنے سامان اور مخفی سامانوں کے مطابق ۱۹۳۰ء سے ۱۹۳۱ء بڑھا ہوا ہونا چاہئے۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض طالب علم ساتویں جماعت میں ہو کر بھی چھٹی والوں سے کمزور ہوتے ہیں مگر یہ ان کی اپنی سستی اور غفلت ہوتی ہے سکول بنانے والے اور اس کے منتظمین یہی انتظام کرتے ہیں کہ اگلی جماعت والا پچھلی جماعت کے لڑکے سے بڑھ کر ہو۔پس یہ نیا سال پچھلے سال سے اپنی استعدادوں کے لحاظ سے بڑھ کر ہے ہم خواہ فائدہ اٹھائیں یا نہ اٹھا ئیں۔ہاں ہم چاہیں تو اس سال میں وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں جو پچھلے سال نہیں کر سکے اور چاہیں تو پچھلی بھی ضائع کر دیں کیونکہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ وہ پچھلا لکھا پڑھا سب بھلا دیتے ہیں پھر بعض عمریں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں سب کچھ بھول جاتا ہے۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ان فیوض سے پوری طرح نفع کا حاصل کرے جو اس نئے سال سے وابستہ ہیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمِ هُوَ فِي