خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 74

۷۴ 9 قومی نقائص اور کمزوریاں (فرموده ۲۷ - فروری ۱۹۳۱ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دنیا میں نقائص ہمیشہ دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک فردی نقائص ہوتے ہیں اور ایک قومی نقائص۔اسی طرح خوبیاں بھی دو قسم کی ہوا کرتی ہیں۔ایک فردی خوبیاں ہوتی ہیں اور ایک قومی خوبیاں۔یعنی ایک تو ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو من حیث القوم کسی قوم میں نہیں ہوتیں۔گو بعض افراد اپنی طبیعت کے لحاظ سے یا اپنی کوشش اور علم کے لحاظ سے ان خوبیوں کو اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں۔اسی طرح بعض نقائص ایسے ہوتے ہیں جو قومی لحاظ سے تو کسی خاص قوم سے وابستہ نہیں ہوتے مگر بعض افراد میں وہ نقائص پائے جاتے ہیں۔ایسے نقائص کا موجب کوئی ایک سبب نہیں ہو تا بلکہ ہر ایک شخص کے لئے علیحدہ علیحدہ اسباب اور علیحدہ علیحدہ موجبات ہوتے ہیں کیونکہ بدی یا خوبی اپنے ماحول کے اثرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔جس طرح کوئی بیج بغیر زمین کے نہیں اگ سکتا اسی طرح کوئی نیکی یا بدی بغیر کسی ماحول کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ارد گرد کے اثرات جب تک کسی نیکی یا بدی کے لئے خاص زمین تیار نہ کر دیں اس وقت تک وہ نیکی یا بدی نشو و نما نہیں پاسکتی۔لیکن آگے ماحول بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو ایسا ماحول یعنی اثر ڈالنے والے ایسے سامان ہوتے ہیں جو خاص اس فرد سے تعلق رکھتے ہیں جیسے بعض قسم کی چیز خاص شہروں کی مخصوص زمینوں میں اگتی ہے۔وہ چیز ملک کے لحاظ سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ خاص قطعہ کی خاص زمین کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔جیسے ہندوستان میں زعفران پیدا ہوتا ہے مگر یہ تمام ہندوستان میں نہیں پیدا ہو تا بلکہ خطہ کشمیر میں پیدا ہوتا ہے اور پھر سارے کشمیر میں نہیں پیدا ہو تا