خطبات محمود (جلد 13) — Page 643
محمود سال ۱۹۳۲ء دنیا سے افضل ہیں اور سب انبیاء پر آپ کو فضیلت تامہ حاصل ہے۔باقی انبیاء کی یہ نیکیاں ختم ہو گئیں مگر آپ کی قیامت تک جاری رہیں گی اس لئے آپ ان سب سے بلند تر مقام پر فائز ہیں۔اس وقت میں ان میں سے صرف ایک نیکی یعنی تربیت کو لیتا ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاهْلِيكُمْ نَارا سے یعنی اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔دنیا میں کون آدمی شریف کہلا سکتا ہے جو مقدرت کے باوجود اپنی اولاد کو تعلیم نہ دلائے۔ان کی صحت کی حفاظت کے سامان نہ کرے۔پھر وہ انسان کس طرح شریف کہلا سکتا ہے جس کی اولاد کو دین سے مس نہ ہو۔یاد رکھنا چاہئے کہ عبادات میں اعلیٰ نیکی نماز ہے۔یہ ایک فرقان و امتیاز ہے مومن و کافر میں، چنانچہ رسول کریم میں ہم نے منافق کی علامت یہ بتائی ہے کہ وہ عشاء اور فجر کی نماز میں نہیں آتا ہے۔لیکن مومن سوائے جائز معذوری کے ضرور آتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق نماز ادا کرتا ہے تو تربیت میں سب سے پہلی چیز نماز ہے اور دوسری ان کو دین سے واقف کرنا۔تعلیم کے بعض حصے استادوں سے متعلق نہیں ہوتے بلکہ اولاد کو ان سے آگاہ کرنا والدین کا فرض ہوتا ہے۔مثلاً انہیں بتانا کہ تمہارا پیدا کرنے والا کون ہے۔رسول کون ہے امام کون ہے۔پھر نظام سلسلہ سے انہیں آگاہ کرتے رہنا۔اگر یہ باتیں آہستہ آہستہ بچوں کے کان میں ڈالی جائیں تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ایسی اولاد اگر بگڑ بھی جائے تو نظام سلسلہ سے ڈرتی رہتی ہے۔ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کی شکایت خلیفہ وقت یا کارکنوں کو نہ پہنچ جائے۔وہ بے شک دوڑیں گے ، کو دیں گے مگر ان کا گلا سلسلہ کے رسہ سے بندھا ہوا ہو گا۔اور ان کی آوارگی ایک محدود دائرہ کے اندر ہوگی۔لیکن جن بچوں کو والدین سلسلہ کے نظام سے واقف نہیں کرتے وہ برملا کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہاری بات نہیں مانتے۔ہوں گے تو دونوں آوارہ لیکن ایک کے گلے میں ایک لمبارسہ ہو گا اور وہ اس کی حد کے اندر ضرور رہے گا لیکن دوسرا بالکل آزاد ہو گا۔پہلے کو کلیتاً بگاڑ نا نا ممکن ہو گا۔بُری صحبت اس کے اندر آورگی پیدا کرے گی مگر سلسلہ کے ساتھ وابستگی ضرور رہے گی۔حتی کہ کسی وقت اس کے دل میں خشیت پیدا ہو جائے گی اور وہ واپس آجائے گا۔اس لئے تربیت کے لئے بچوں کو ایسی باتیں بتاتے رہنا نہایت ضروری ہے۔اسی طرح نماز بھی تربیت کے لئے بہت ضروری چیز ہے۔اس کے بغیر انسان کو کوئی نور نہیں مل سکتا۔اور جس دن کوئی نماز ناغہ ہو جائے ، اس دن انسان کی روحانی لحاظ سے موت واقع ہو جاتی ہے۔اور یہ سب کو معلوم ہے کہ لولے لنگڑے کو صحت ہو جاتی ہے بیمار اچھے ہو سکتے ہیں لیکن مردہ کو زندہ کرنا ممکن