خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 59

خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۱ء اور پہلوں سے بہتر بنا سکتے ہیں اس لئے اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ بچوں کے اندر پہلوں کی خوبیاں تو آئیں مگر ان کی کوتاہیاں نہ آنے پائیں۔پھر بعض لوگ تربیت تو اچھی کرتے ہیں مگر ان کے اندر اخلاص پیدا کرنیکی کوشش نہیں کرتے۔ان کے الفاظ شستہ ہوتے ہیں گفتگو سلجھی ہوئی ہوتی ہے، ادب بھی ان میں ہوتا ہے مگر ان کے دل ٹھنڈے ہوتے ہیں ان کے اندر وہ گرمی نہیں ہوتی جو دین کے متعلق ان کے ماں باپ میں تھی۔ایسے لوگ انسان نہیں بلکہ مشینیں ہوتے ہیں جو قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔قوم کو وہی نسل تباہی سے بچا سکتی ہے جس کے اندر ظاہری تربیت کے ساتھ اخلاص بھی ہو۔اگر صرف ظاہری تربیت ہی ہو انسان کی زبان صاف ہو جسم صاف ہوں اور لباس بھی صاف ستھرے ہوں وہ محنتی بھی ہوں مگر ان کے دلوں میں دین کے لئے اخلاص نہ ہو تو کسی فائدہ کا موجب نہیں ہو سکتے۔اور اگر دل میں اخلاص ہو اور تربیت میں نقائص رہ جائیں اور پہلے اثرات ان میں منتقل ہو جائیں تو پھر بھی کما حقہ ترقی نہیں ہو سکتی۔ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ظاہری تربیت اور اخلاص دونوں موجود ہوں۔پس ضرورت ہے کہ یہ دونوں باتیں ہم اپنی اولادوں میں پیدا کریں۔حضرت مسیح علیہ السلام کی بعض نصیحتیں مجھے بڑی پیاری لگتی ہیں بلکہ یہ فقرہ میں نے غلط کیا انبیاء کی ساری باتیں ہی پیاری ہوتی ہیں یوں کہنا چاہئے کہ ان کی جو باتیں انجیل میں باقی رہ گئی ہیں وہ سب بہت ہی پیاری ہیں۔ایک موقع پر کچھ لوگ اپنے بچوں کو ان کی مجلس میں لائے۔شاگردوں نے ان کو جھٹر کا مگر آپ نے فرمایا بچوں کو میرے پاس آنے دو اور انہیں منع نہ کرو کیونکہ خدا کی بادشاہت ایسوں ہی کی ہے۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی خدا کی بادشاہت کو بچے کی طرح قبول نہ کرے وہ اس میں ہر گز داخل نہ ہو گا"۔سے اس میں آپ نے دو سبق دیئے ہیں۔اول تو یہ کہ اپنی اولادوں کو ٹھنڈ ا مت کرو۔انہیں جوش میں بڑھنے دو تا ان کے اندر سردی پیدا نہ ہو کیونکہ جب بھی قواعد کی بہت سختی سے پابندی کرائی جائے تو اس سے بھی کسی قدر سردی پیدا ہو جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے پہلے میرے مسجد میں آنے پر صفیں بنانے کا اور راستہ دینے کا طریق نہ تھا اور لوگ خصوصاً بچے مجمع میں گھتے ہوئے آگے آتے اور مصافحہ کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر جب سے صفیں بنانے کا قاعدہ ہوا ہے بعض اوقات پاس سے گذر جانے پر بھی بعض لوگ اس خیال سے چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کہ قاعدہ کی پابندی میں کہیں غلطی نہ ہو جائے۔ایسا ہی کوئی قاعدہ وہاں بنایا گیا ہو گا جس پر آپ نے فرمایا کہ