خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 594

خطبات محمود ۵۹۴ سال ۱۹۳۲ء آبیاری کی تھی۔بعض اور لوگ نہیں جنہیں ہر قسم کی قربانیاں کرنے کی توفیق ملتی ہے۔باوجود اس کے وہ اور خواہش کرتے ہیں کہ انہیں قربانی کا موقع ملے۔یہی لوگ حقیقی جنت میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کا دل ہمیشہ خدا تعالیٰ کی رضاء سے خوش ہو تا رہتا ہے۔اور کوئی تکلیف انہیں غمگین نہیں کر سکتی۔ایک اور بات بھی یادرکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ اچھے اعمال کے نتیجہ میں جنت ملتی ہے اور قلبی راحت کا نام ہی جنت ہے۔پس اگر کسی کو اپنے اعمال کے نتیجہ میں سرور نہیں حاصل ہو تا خوشی نہیں ملتی ، آرام محسوس نہیں ہو تا تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی قربانی ضائع گئی۔رسول کریم میں کے زمانہ میں اور آپ کے بعد صحابہ کی بہت سی مثالیں ایسی ملتی ہیں جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انکے نزدیک قربانی کا مفہوم ہی اور تھا۔اس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے لیکن اشار تا ایسی احادیث وسیر کی کتابوں کے مطالعہ سے اس کی وضاحت ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ صحابہ میں سے بعض تو اپنا فرض ادا کر چکے ہیں اور بعض اس کے انتظار میں ہیں۔جب جنگ بدر ہوئی تو بہت سے صحابہ اس میں شامل نہیں ہوئے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ رسول کریم میم نے اس جنگ کا اظہار نہیں کیا تھا حالانکہ آپ کو الہام ہو چکا تھا۔بعض روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ روانگی سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا۔بلکہ راستہ میں الہام کے ذریعہ علم دیا گیا۔پہلے آپ کا صرف یہی خیال تھا کہ یہ صرف دھمکی ہے اور باقاعدہ جنگ کا ارادہ نہیں تھا۔غرض اس جنگ میں سب صحابہ شریک نہ ہو سکے۔لیکن جنگ کے بعد جب آنحضرت میں واپس تشریف لائے تو جو صحابہ نہیں گئے تھے انہیں اپنے محروم رہ جانے کا افسوس ہوا۔ان میں سے ایک صحابی کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔جس میں جنگ بدر کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی اور شاملین جنگ کے کارنامے بیان ہو رہے تھے۔کچھ دیر تو وہ صحابی خاموش رہے آخر کہنے لگے تم نے کچھ بھی نہیں کیا میں ہو تا تو دشمن کے دانت کھٹے کر دیتا۔بظاہر یہ تکبر کا فقرہ تھا اور اس قسم کا دعوئی سے بسا اوقات کہنے والے کے دل کو زنگ لگ جاتا ہے لیکن اس وقت انہوں نے پورے اخلاص سے یہ کہا اور معلوم ہوتا ہے کہ عقیدت و اخلاص سے ان کا دل اس قدر لبریز اور بھرا ہوا تھا کہ ان کے لئے ایسا کرنا جائز ہو گیا تھا۔آخر انہی صحابی کو جب جنگ احد میں شامل ہونے کا موقع ملا تو اس جنگ کی اس گھبراہٹ والی گھڑی میں جب کہ بہت سے جری اور بہادر دل تو ڑ رہے تھے۔وہ صحابی حضرت عمرؓ کے پاس