خطبات محمود (جلد 13) — Page 575
جلدی ہی با قاعدہ ادائیگی فراموش ہو جائے گی۔سال ۱۹۳۲ء غرض کسی کام کو بھی مسلسل جاری نہیں رکھ سکیں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سی قربانیاں کر کے بھی ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں جو ان قربانیوں کے نتیجہ میں انہیں ملنے چاہئیں۔وہ نمازیں پڑھتے ہیں، قومی خدمات میں اپنے اوقات خرچ کرتے ہیں ، چندے دیتے ہیں لیکن انعام ملنے سے پہلے ہی غافل ہو کر انعام سے محروم رہ جاتے ہیں۔غرض ان کی مثال الیقی نَقَضَتْ غز لھا کی سی ہوتی ہے۔وہ اپنے تحمل کو اس وقت چھوڑ دیتے ہیں جب نتیجہ نکلنے والا ہوتا ہے۔اگر وہ کچھ اور صبر کرتے یہاں تک کہ انہیں انعام مل جاتا تو پھر انہیں استقلال قائم رکھنے کے لئے زیادہ جد و جہد نہ کرنا پڑتی کیونکہ پھر استقلال بہت حد تک خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔دنیا میں ہی دیکھ لو جس شخص کو ماہ بماہ تنخواہ مل جاتی ہو اور ہر طرح آرام میں ہو کیا وہ نوکری چھوڑ دیا کرتا ہے۔ہاں اگر باوصف کام کرنے کے تنخواہ نہ ملے تو پھر نوکری چھوڑنے پر وہ مجبور ہو گا۔ہمیشہ ہے استقلابی اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ کوئی آدمی انعام حاصل کرنے سے پہلے ہی اپنے انعام کو چھوڑ دے۔لیکن اگر کسی کو اس کے کام کا انعام مل جائے تو پھر وہ اسے نہیں چھوڑے گا سوائے ایسی صورت کے کہ وہ بالکل ہی کم ہمت اور نکما ہو۔الی انعام کے متعلق ایک اور اصل بھی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اگر کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد آئندہ کام کرنا بند کر دیا جائے تو کئے ہوئے کام کی تو مزدوری مل جائے گی کہاں آئندہ کوئی انعام نہیں ملے گا۔لیکن الی انعامات کا یہ طریق نہیں بلکہ اس میں جتنا کام کرو گے اس سے بڑھ کر انعامات ملیں گے اور جب چھوڑ دو گے تو یہی نہیں کہ صرف آئندہ کے لئے انعامات بند ہو جائیں گے بلکہ پہلے انعام بھی چھن جائیں گے۔اللہ تعالی کے تمام انعامات کی یہی کیفیت ہے۔علم ہی کو لے لو۔یہ الہی انعام ایسا ہے کہ جب تک اسے حاصل کرتے رہو اس میں کوشاں رہو یہ بڑھتا رہتا ہے لیکن جب اسے چھوڑ دو یہ نہیں کہ آئندہ کی ترقی رک جائے گی بلکہ پہلا حاصل شدہ بھی ضائع ہو جائے گا۔غرض الی انعام اس کیفیت کے حامل ہوتے ہیں کہ انہیں جتنا چاہو بڑھاتے چلے جاؤ وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے۔لیکن جہاں کھڑے ہو جاؤ ان کا آئندہ حصول بند کردو ، پہلے بھی چھن جائیں گے۔اس لئے مومن کو ہمیشہ اپنے کام کرت NDULUKANGAن کی صفت کے ماتحت کرنے چاہئیں۔یعنی کاموں کو شروع کرنے کے بعد استقلال کو کبھی ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔اگر کوئی انسان کسی وقت یہ خیال کرتا ہے کہ میں آئندہ اپنی کوشش بند کردوں اور کوئی کام نہ کروں تو اس کا یہی