خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 563

خطبات محمود ۵۶۳ سال ۱۹۳۲ء رکھا ہے یعنی دسواں حصہ جماعت کا معتدبہ حصہ اس میں بھی حصہ نہیں لیتا حالا نکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت وصیت کی طرف توجہ کرے تو ایک کثیر حصہ بخوبی وصیت کر سکتا ہے۔مگر افسوس یہ ہے کہ لوگ توجہ نہیں کرتے۔اب ہمارا اسلسلہ خدا کے فضل سے اس مقام تک پہنچا ہوا ہے کہ بہت سی روکیں ہمارے راستہ سے دور ہو گئی ہیں اور کروڑوں آدمی ایسے ہیں جو مانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے تھے۔مگر ضرورت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس پہنچیں اور انہیں سلسلہ میں داخل کریں۔مگر ابھی سامان ہمارے پاس ایسے نہیں۔جاہلوں کو جانے دو تم سمجھدار لوگوں سے بات کرد، فورا تمہیں محسوس ہو گا کہ ان کے دل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے قائل ہیں۔ضرورت ہے کہ ان کے پاس پہنچا جائے مگر اس کے لئے تبلیغی وسعت کی ضرورت ہوگی اور یہ وسعت پھر سرمایہ چاہتی ہے۔اسی طرح سینکڑوں ممالک کے لوگ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ہمارا مبلغ جائے مگر ہم نہیں بھیج سکتے۔گویا ایک زمانہ تو ایسا تھا کہ جب ہم لوگوں کو اپنی باتیں سنانا چاہتے تھے اور وہ سنتے نہیں تھے۔یا اب یہ حالت ہے کہ لوگ ہماری باتیں سننا چاہتے ہیں اور ہم سا نہیں سکتے۔اس روک کو دور کرنا ہمارا فرض ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر دوست وصیت کی طرف توجہ کریں تو یہ روک اللہ تعالٰی کے فضل سے بہت جلد دور ہو سکتی ہے۔پس یہ تین باتیں ہیں جن کی طرف میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔اول کشمیر کا چندہ ہے جو دوست غافل ہیں وہ توجہ کریں اور باقاعدہ اس میں حصہ لیں دوسرے واجبی چندوں کی ادائیگی کا مسئلہ ہے۔جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص متواتر تین مہینے تک چندہ نہیں دیتا وہ جماعت میں سے نہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ کمزوروں کو اٹھا ئیں انہیں چندوں کی ادائیگی کا فرض یاد دلائیں۔اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میں مجبور ہوں اور مشکلات میں گھرا ہوا ہوں تو بھی اسے سمجھنا چاہئے کہ کامیابی بغیر مشکلات برداشت کئے حاصل نہیں ہوا کرتی۔اور اللہ تعالٰی کی نصرت بھی تکلیفوں کے بعد آتی ہے۔پس ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ چندوں کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہو۔تیسرے وصیت کا مسئلہ ہے۔یہ خدا نے ہمارے لئے ایک نہایت ہی اہم چیز رکھی ہے اور اس ذریعہ سے جنت کو ہمارے قریب کر دیا ہے۔پس وہ لوگ جن کے دل میں ایمان اور اخلاص تو ہے مگر وہ وصیت کے بارہ میں سستی دکھلا رہے ہیں، میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وصیت کی طرف جلدی بڑھیں۔انہی مستیوں کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے کہ