خطبات محمود (جلد 13) — Page 562
طبات محمود ۵۶۲ سال ۹۳۲ الحوصلہ ہوتے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالی کی تائید نازل ہوتی ہے کیونکہ مومن کی تعریف اللہ تعالی میں بیان فرماتا ہے الم نشرح لك مدرک کی دوسری جگہ فرماتا ہے کہ ہم جن کی بھلائی چاہتے ہیں ان کے سینے کھول دیتے ہیں۔تو ایمان کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسے شخص کا سینہ کھل جاتا ہے۔جب قربانی کے بعد دل میں تنگی محسوس ہو اس وقت سمجھ بینا چاہئے کہ ابھی کامل ایمان حاصل نہیں ہوا۔ایمان کی حالت میں انسان بشاشت محسوس کرتا ہے اور ایسی حالت میں اگر ادنیٰ سے ادنی چیز بھی خدا کی راہ میں دی جائے تو وہ مقبول ہو جاتی ہے۔رسول کریم علیم کے زمانہ میں ایک صحابی نے سارا دن مزدوری کی اسے تھوڑے سے دانے اجرت میں ملے اس نے ایک مٹھی دانے رسول کریم میں اہلیہ کی خدمت میں حاضر کئے۔منافقوں نے یہ دیکھا تو خوب قہقہے لگائے اور کہنے لگے کیا ان دانوں سے ملک فتح ہوں گے۔حالانکہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اسے صرف دو مٹھی دانے ملے جن میں سے ایک مٹھی اس نے خدا کی راہ میں دے دیئے۔پس اس کا اخلاص ان لوگوں سے ہزاروں درجے بڑھ کر تھا جو بہت سارو پہیہ اپنے گھر میں رکھتے اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔تیرا فرض جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلا تا ہوں وہ وصیت کا مسئلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ وصیت ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہے۔اور وہ اس کے ذریعہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سچا مومن ہے اور کون نہیں گا۔ہماری جماعت اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ہے۔مگر وصیت کرنے والے صرف دو - تین ہزار ہیں۔حالانکہ وصیت ایسی چیز ہے جو یقینی طور پر خدا کا مقرب ہونا ظاہر کرتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ مومن ہی وصیت کرتا ہے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہوں تو جب وہ وصیت کرے تو اللہ تعالٰی اپنے اس وعدہ کے مطابق کہ بہشتی مقبرہ میں صرف جنتی ہی مدفون ہوں گے ، اس کے اعمال کو درست کر دیتا ہے۔پس وصیت اصلاح نفس کا زبر دست ذریعہ ہے کیونکہ جو بھی وصیت کرے گا اگر وہ ایک وقت میں جنتی نہیں تو بھی وہ جنتی بنا دیا جائے گا اور اگر اعمال اس کے زیادہ خراب ہیں تو خدا اس کے نفاق کو ظاہر کر کے اسے وصیت سے الگ کر دے گا۔غرض وصیت کرنے والے کو یا تو اللہ تعالٰی اصلاح نفس کی توفیق دے کر جنتی بنا دے گا یا اسے وصیت سے الگ کر کے اس کے نفاق کو ظاہر کر دے گا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی کا درجہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے