خطبات محمود (جلد 13) — Page 550
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء مومن کو نہیں۔قرآن مجید میں آتا ہے کہ کافر کے گا لیکیتنِي كُنْتُ تُرَاجا کاش میں مٹی ہو تا یعنی عذاب سے بچ جاتا۔تو یہ نجات کا فر کا مقصد ہوتی ہے۔مومن کا مقصد ہمیشہ قرب الہی ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اجمالی ایمان بھی نجات کا باعث ہو جاتا ہے۔اس لئے ہم ان کا جو احمدی کہلاتے ہیں جنازہ پڑھتے اور ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔لیکن تقرب کے لئے ضروری ہے کہ جو فیصلہ کرو قرآن مجید کے ماتحت کرو اور یقین رکھو کہ قرآن کا حکم ہی صحیح ہے۔جو تمہاری عقل کہتی ہے وہ اس کی کوتاہی اور ناتجربہ کاری ہے۔ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک بات تمہاری سمجھ میں نہ آئے اس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے میں سے زیادہ سمجھدار لوگوں سے دریافت کرد۔وہ تمہیں بتا سکتے ہیں کہ قرآن کا حکم کس طرح صحیح اور درست ہے۔پس اپنے اعمال کو قرآن کے مطابق کرو اور یاد رکھو کہ قرآن کی بنیاد لاریب فیہ پر ہے۔اگر تمہارے دل میں قرآن مجید کی عظمت ہے اور محض لغوں کے طور پر تمہارے مونہوں سے یہ نہیں نکلتا کہ ہم قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور محض لغو کے طور پر تم یہ نہیں کہتے کہ تم قرآن کے ماتحت فیصلہ کرنا چاہتے ہو تو پھر اگر تم بعض اوقات اپنی کو تاہی عقل سے کسی حکم کو نظر انداز کر جاتے ہو تو قابل معافی ہو سکتے ہو لیکن اگر تم نے اس ایمان کے صرف یہ معنی سمجھ رکھے ہیں کہ صرف زبان سے کہہ دیا کہ ہم ایمان لے آئے اور عمل نہ کیا۔اور جس شخص کے دل میں یہ خواہش نہیں کہ وہ قرآن مجید کے ماتحت فیصلہ کرے ، چاہے وہ اپنے مونہہ پر بلکہ اپنے سارے جسم اور عضو عضو پر گود لے کہ میں احمدی ہوں میں احمد کی ہوں تب بھی وہ خدا کے حضور اسی لسٹ میں درج ہو گا جو غیر مومنوں اور غیر احمدیوں کی ہے۔پس یاد رکھو قرآن مجید کا ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جو نا قابل عمل ہو ، ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جو حکمت سے خالی ہو ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات روحانیہ کا وارث نہ بنا سکتا ہو اور ہر وہ عقل جو اس کے خلاف کہتی ہے۔ہر وہ عقل جو اسے غلط سمجھتی ہے ہر وہ عقل جو اپنے خود تراشیدہ فیصلوں کو صحیح سمجھتی ہے وہ بے بہرہ ہے، اندھی ہے ، دوزخی ہے ، جہنمی ہے۔وہ نہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ دوسرے کو۔ایسی عقل بیش کی ڈلی سے مشابہت رکھے گی۔جسے ناواقف آدمی تربی خیال کر کے اٹھالیتا اور کھا کر ہلاک ہو جاتا ہے۔بسا اوقات نربسی کی بُری شکل دیکھ کر اور بیش کی خوشنمائی دیکھ کر انسان سمجھتا ہے کہ تریاق یہ ہے۔حالانکہ جسے وہ زہر سمجھ رہا ہوتا ہے وہ تریاق ہوتا ہے اور جسے تریاق خیال کرتا ہے زہر ہوتی ہے۔اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کسی کی عقل کسی بات کو اچھا قرار دے اور کہے کہ موزوں فیصلہ وہی ہے لیکن وہ زہر کا پیالہ ہو گا۔