خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 465

خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۳۲ خو نکالے مگر بجائے اصلاح کے یہ زمین خراب ہوتی چلی گئی۔اور بجائے فائدہ کے نقصان ہی ہو تا چلا گیا۔پس اگر وہ یورپ جو اپنے علم کے لحاظ سے اپنی عقل کے لحاظ سے اپنے تجربہ کے لحاظ سے اپنے مال کے لحاظ سے اپنی دولت کے لحاظ سے اپنی شوکت کے لحاظ سے اپنے سامانوں کے لحاظ سے اپنے آدمیوں کے لحاظ سے اپنے جتھے کے لحاظ سے اپنی تنظیم کے لحاظ سے غرض ہر جہت سے ہم سے بڑھ کر ہے اس میدان میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نا کام رہا ہے تو میں حیران ہو تا ہوں ان لوگوں پر جو ایک مچھر کی حیثیت بھی نہیں رکھتے اور اپنے ایجاد کردہ طریقوں سے لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اگر انسانی تدبیروں کے ساتھ اصلاح کے مدعی دوسرے لوگ ہوتے۔اگر دوسری قومیں دوسری جماعتیں اور دوسری انجمنیں اپنی تدبیروں کے پیچھے پڑتیں تو وہ معذور سمجھی جاسکتی تھیں کیونکہ انہوں نے اللہ تعالٰی کا ہاتھ نہیں دیکھا۔اللہ تعالٰی کا ہاتھ پوشیدہ ہے۔اور پوشیدہ ہاتھ کی طرف دیکھنا اور اس سے مدد حاصل کرنا وہ نادانی سمجھتے ہیں۔اور نہیں جانتے کہ حقیقی دانائی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کی جائے۔لیکن میں حیران ہو تا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا، اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے وہ بھی انسانی تدبیروں کے ساتھ اصلاح کے مدعی بنتے ہیں۔اگر خوش قسمتی سے ہمیں اچھی بیویاں مل گئی ہوں تو یہ اور بات ہے مگر کتنے ہیں تم میں سے جنہیں بیویاں ان کے مناسب حال نہ ملیں اور پھر وہ اپنی بیوی کی اصلاح پر ہی قادر ہو سکے۔اگر خوش قسمتی سے تمہارا بچہ نیک اور خدا پرست ہے تو یہ خدائی فعل ہے۔اس میں تمہارا دخل نہیں لیکن کتنے ہیں تم میں سے کہ اگر ان کا ایک بچہ بھی خراب ہو گیا تو وہ اس کی اصلاح پر قادر ہو سکے ہوں۔پس تم اگر ایک بیوی کی اصلاح نہیں کر سکتے ، اگر تم اپنے ایک بچے کی اصلاح پر قادر نہیں ہو سکتے تو کس طرح تم ساری قوم کے بچوں اور ساری قوم کے آدمیوں کی درستی اپنی تدابیر کے ذریعہ کر سکتے ہو۔اگر تم ایسا دعویٰ کرتے ہو تو یہ دعوئی باطل اور غلط ہے۔اور سوائے جنون کے میں اس کا اور کوئی نام رکھنے کے لئے تیار نہیں۔بچوں کی درستی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے اور محض اللہ تعالی کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت ہوتی ہے۔جس وقت خدا تعالیٰ اصلاح کرنا چاہتا ہے اس وقت خود بخود ایسا انتظام کر دیتا ہے جس کے ماتحت آپ ہی آپ اصلاح ہو جاتی ہے۔یا تو ایک وقت وہ ہوتا ہے کہ بندے کو شش کرتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتا۔اور یا ایسا وقت آجاتا ہے کہ بندے کچھ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ اپنا کام سرانجام دے لیتا ہے۔-