خطبات محمود (جلد 13) — Page 310
خطبات محمود ۳۱۰ سال ۱۹۳۱ء کیونکہ وہ جر منی لفظ ہے غالبا نو لنگ یا نولڈ اس کا نام ہے اپنی کتاب میں اس نے قرآن کریم کا بھی ذکر کیا ہے اور قرآن مجید کے ذکر میں اس نے سورۃ فاتحہ کو لیا ہے اور اس کے متعلق جو بات لکھی ہے اس کا ایک حصہ تو ہر مسلمان کے دل کو خوشی اور مسرت سے بھر دیتا ہے مگر اس کا دوسرا حصہ دل کو غم اور الم سے پُر کر دیتا ہے وہ ایک ہی فقرہ جسکا آدھا حصہ مسلمان کے دل کو خوشی سے اور دو سرا آدھا حصہ غم سے بھر دیتا ہے یہ ہے کہ قرآن اس نہایت ہی خوبصورت چھوٹی اور قیمتی دعا سے شروع ہوتا ہے جس کو مسلمان ہر روز بلا ناغہ اور متواتر پڑھنے کی وجہ سے اس کی تاثیر سے متاثر ہونے سے بالکل محروم رہ گئے ہیں۔اس کا پہلا فقرہ ایک عیسائی عالم کے مونہہ سے کتنی زبر دست تعریف ہے کہ قرآن مجید کی ابتدا ایک چھوٹی مگر نہایت ہی خوبصورت اور قیمتی دعا سے ہوتی ہے لیکن اس کا دوسرا حصہ کہ جس کو مسلمان بوجہ روزانہ پڑھنے کے اس کی خوبصورتی دیکھنے کی قوت کھو بیٹھے اور ان کی بینائی جاتی رہی اور مان کی نگاہ سے ان کی خوبیاں اوجھل ہو گئیں نهایت درد اور رنج کے جذبات پیدا کرنے والا ہے۔ایک عیسائی اور پکا عیسائی اگر ایک طرف اس دعا کی خوبصورتی کا اعلان کرتا ہے تو دوسری طرف مسلمانوں کی نابینائی پر افسوس بھی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اتنی خوبصورت چیز ان کی نگاہ سے اوجھل ہو گئی۔گویا اس ایک ہی فقرہ میں جہاں وہ مسلمانوں کی عدم توجہ کا شکوہ کرتا ہے وہاں وہ اسلام پر بھی اعتراض کر جاتا ہے اور اسکی وجہ سورۃ فاتحہ کو کثرت سے پڑھنا قرار دیتا ہے کیونکہ وہ لکھتا ہے کہ کم از کم ہیں دفعہ مسلمان اس سورۃ کو دن رات میں پڑھتے ہیں اس لئے کہ اس نے اپنے حساب میں فرائض اور واجب نمازوں کو شامل کیا ہے اور اس طرح میں ہی تعداد بنتی ہے کیونکہ صبح کے دو فرض ، ظہر کے چار ، عصر کے چار مغرب کے تین ، عشاء کے چار اور تین و تر گویا ہمیں دفعہ اس حساب سے سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ چونکہ کم سے کم ہیں دفعہ مسلمان دن رات میں اس سورۃ کو پڑھتے ہیں اس لئے کثرت سے پڑھنے کی وجہ سے اس کی خوبصورتی ان کی نظر سے اوجھل ہو گئی اور اس کے فوائد سے متمتع ہونے کا خیال ان کے دل سے نکل گیا ہے۔مگر جس وقت اللہ تعالٰی نے یہ دعا مسلمانوں کے لئے مقرر کی تھی اور جس وقت رسول کریم میں یا کہ ہم نے اسے اپنی سنت سے نمازوں میں پڑھا جانا ضروری قرار دیا تھا کیا اس وقت خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ ہم اسے کثرت کے ساتھ پڑھنے کی وجہ سے اس کی خوبصورتی سے غافل ہو جائیں یا کیا رسول کریم کی یہ منشاء تھا کہ اس طریق سے مسلمانوں کا دل اس سورۃ کی طرف مائل نہ رہے اور جس طرح کبھی کبھی کسی چیز کو دیکھ