خطبات محمود (جلد 13) — Page 305
خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۱ء صورت میں مرد کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی مساوی ہیں اور تم بھی مساوی ہم نے کوشش کی اور ترقی کر گئے اگر تم بھی کوشش کرتیں تو ترقی کر جاتیں لیکن چونکہ تم نے خود ترقی کے لئے جد وجہد نہیں کی اس لئے ہماری طرح تمہیں عروج حاصل نہیں ہوا۔مگر ایک اور نقطہ نگاہ ہے جو اس سے بالکل مختلف ہے اور وہ یہ کہ گو بعض باتوں میں مرد اور عورت مساوی ہیں مگر بعض باتوں میں اختلاف بھی رکھتے ہیں۔اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر عورتوں کی ذمہ داری کسی قدر کم ہو جاتی ہے اور وہ کہہ سکتی ہیں کہ تعلیم کے معاملہ میں عورتوں کو مردوں کی امداد کی ضرورت ہے یادہ کہہ سکتی ہیں کہ عمل کے میدان میں بھی عورتوں کو مردوں کی مدد کی ضرورت ہے۔پس میں نہیں کہہ سکتا کہ عمل کے میدان میں بھی عورتوں کو مردوں کی مدد کی ضرورت ہے۔مگر بہر حال اس واقعہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورتیں مردوں کی نسبت انتظام میں بہت پیچھے ہیں اور عمل میں بہت پیچھے ہیں اور خصوصیت سے یہ بات ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ہندو کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے که مسلمان پرده وغیرہ کی رسوم ملک کے اندر لے آئے اور جب عورتوں نے ان پابندیوں کو اختیار کیا تو انکی عملی قوتیں ست ہو گئیں۔مسلمان کہتے ہیں جن ملکوں میں ہم ہی ہم ہیں۔وہاں کی عورتیں یہاں کی نسبت بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔پس یہ بلا جو ہندوستانی عورتوں پر پڑی ہندوؤں کی وجہ سے ہی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ اس دعوئی میں ہندوؤں کے دعوی کی نسبت بہت زیادہ وزن ہے بہر حال واقعہ یہی ہے کہ ہمارے ملک کی عورتیں مردوں کی نسبت میدان ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔اس کی زیادہ تر یہ بھی وجہ ہے کہ انہیں کام کرنے کے مواقع بہت کم میتر آتے ہیں۔انسان کے اندر کچھ ایسی بات پائی جاتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کسی کام کے بار بار مواقع پیش آتے رہیں تو اسے بہت زیادہ واقفیت پیدا ہو جاتی ہے لیکن عورتوں کے لئے یہاں کام کے مواقع بھی بہت کم میتر آتے ہیں اور اس وجہ سے بھی وہ پورے طور پر اپنی قابلیتوں کا اظہار نہیں کر سکیں لیکن یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ ہماری جماعت کے لئے ایسے کئی موقعے میتر ہیں۔ہماری جماعت کے لوگوں کو تعلیم کا شوق بھی ہے وعظ و نصیحت کے لیکچر اور تقریریں سنے کا بھی شوق ہے اور علاوہ ازیں انہیں سال میں کم از کم ایک دفعہ کام کرنے کا موقع بھی مل جاتا ہے اور یہ موقع ہماری جماعت کے سوا شاذ و نادر ہی کسی اور جماعت کو ملتا ہے۔پس اگر کوئی جماعت اس قابل ہے کہ وہ عورتوں کی سستی کو دور کرے تو وہ ہماری جماعت ہی ہے اور اگر کوئی موقع ایسا ہے کہ وہ نظام کے ماتحت جماعت کو کام کرنے کی عادت