خطبات محمود (جلد 13) — Page 219
خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۳۱ء والسلام کی تحریروں کو ایسے رنگ میں پڑھیں کہ اس طرز کی نقل کر سکیں۔اور اس لٹریچر کی نقل کرنے کی کوشش نہ کریں جس میں شوخی اور ہنسی کا پہلو ہو تاکہ وہ دو خدمتیں بجالانے والے ہوں۔ایک خدمت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دلائل کے قیام کی اور دوسری آپ کے طرز تحریر کو جاری کرنے کی۔موجودہ صورت میں وہ ایک رنگ میں تو خدمت کر رہے ہیں یعنی سلسلہ کے دلائل کو قائم کر رہے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طرز تحریر کو چھوڑ کر دوسرے رنگ میں حملہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے عمل سے بتارہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طرز تحریر نہیں بلکہ مولوی ثناء اللہ وغیرہ کا طرز تحریر قابل تقلید ہے جس میں دوسروں کو گالیاں دیتا یا تھوڑی دیر کے لئے ہنسالینا مد نظر ہوتا ہے۔پس ہمارے اخبار نویسوں ، رسالہ نویسوں اور کتابیں لکھنے والوں کو چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے طرز تحریر کی نقل کریں۔میں نے ہمیشہ یہ قاعدہ رکھا ہے خصوصاً شروع میں جب مضمون لکھا کرتا تھا۔پہلا مضمون جو میں نے تشحیذ میں لکھا وہ لکھنے سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کی تحریروں کو پڑھاتا اس رنگ میں لکھ سکوں اور آپ کی وفات کے بعد جو کتاب میں نے لکھی اس سے پہلے آپ کی تحریروں کو پڑھا اور میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالٰی کے فضل سے اس سے میری تحریر میں ایسی برکت پیدا ہوئی کہ ادیبوں سے بھی میرا مقابلہ ہوا اور اپنی قوت ادبیہ کے باوجود انہیں نیچا دیکھنا پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر اپنے اندر ایسا جذب رکھتی ہے کہ اس کی نقل کرنے والے کی تحریر میں بھی دوسرے سے بہت زیادہ زور اور کشش پیدا ہو جاتی ہے۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مسیح ناصری تو دنیا کے لٹریچر کا رنگ بدل دے مگر مسیح محمدی نہ بدلے۔اگر انجیل نے انیس سو سال تک دنیا کے لٹریچر کا رنگ بدلا ہے تو مسیح محمدی اس سے بہت زیادہ عرصہ تک بدلے گا مگر اس کی طرف پہلا قدم اٹھانا ہمارا کام ہے۔اگر ہمارا طرز تحریر وہی ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے تو پھر دیکھو کتنا اثر ہوتا ہے۔ولائل بھی بے شک اثر کرتے ہیں مگر سوز اور در دان سے بہت زیادہ اثر کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں دلائل کے ساتھ ساتھ درد اور سوز پایا جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایسا پانی ہے جس میں ہلکی سی شیرینی ملی ہوئی ہے۔وہ بے شک شربت نہیں لیکن ہم اسے عام پانی بھی نہیں کہہ سکتے۔وہ پانی کی تمام خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے مگر دوسری طرف پانی سے زائد خوبیاں بھی اس کے اندر موجود