خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 179

خطبات محمود 169 سال ۱۹۳۱ء نہیں بلکہ اپنے اندر نفاق کا شعبہ رکھتا ہے۔حقیقی ایمان تو یہ ہے کہ جس طرح ماں جب اپنے بچے کو چھیڑ مارنے لگے تو وہ خیال کرتا ہے شاید مجھے پیار کرنے لگی ہے کیونکہ اس کو اپنی ماں کی محبت پر کامل یقین ہوتا ہے۔اسی طرح انسان خدا کے متعلق بھی یہی خیال اور یقین رکھے کہ وہ ہر وقت اس پر اپنی رحمتیں اور برکتیں ہی نازل فرمائے گا۔پس اگر ہمیں خدا کی محبت پر یقین ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس کی طرف سے کوئی ابتلاء بھی آئے تو وہ ہمیں جگانے اور بیدار کرنے کے لئے ہو گا ہلاک کرنے کے لئے نہیں۔جس طرح ماں جب اپنے بچے پر ہاتھ اٹھاتی ہے تو کسی دشمنی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی اصلاح اور تادیب کے لئے۔اور اس میں کیا شبہ ہو سکتا ہے کہ ماں اور باپ کا تھپڑ دو سروں کے پیار سے زیادہ اپنے اندر پیار رکھتا ہے کیونکہ وہ سراسر اصلاح کے لیئے ہوتا ہے۔پس اگر ماں باپ کی سزا صرف اصلاح کی غرض سے ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء آئے کیو نکر سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ ہمیں تباہ کرنے کے لئے ہے۔پس مشکلات سے کبھی مت ڈرو بلکہ خدا کی نصرت پر یقین رکھو اور اس سے دعائیں کرو۔مجھے اس خطبہ اور چالیس سالہ جوبلی کی طرف ایک رڈیا سے توجہ پیدا ہوئی ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ سلسلہ کے راستہ میں بعض مشکلات درپیش ہیں۔میں نے دیکھا بعض دوستوں نے ان کے ازالہ میں کو تاہی کی اور رڈیا میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ دشمنوں کی شرارتوں سے خوف کھا رہے ہیں۔تب اچانک میں نے دیکھا کہ دشمنوں میں سے ایک نے وار کر دیا لیکن اللہ تعالٰی نے ایسے غیر معمولی سامان پیدا کر دیئے کہ وہی دار الٹ کر اس پر جاپڑا جس نے وار کیا تھا۔اور جب میں نے دیکھا کہ بعض دوست ڈر رہے ہیں اور دشمن اپنا وار کر چکا اوروہ دارالٹ کر اسی پر جا پڑا تو میں نے خود اس کے حملے کا مقابلہ کرنا چاہا۔اس پر اچانک ایک اور دشمن ظاہر ہوا اس نے میرا مقابلہ کیا۔مگر باوجود اس کے کہ اس کا وار مجھ پر تھا اور باوجود اس کے کہ وہ دار مجھ پر پڑا بھی مگر نقصان مجھے نہیں پہنچا بلکہ اس دشمن کو نقصان پہنچ گیا۔پھر ایک تیسرے دشمن نے وار کرنا چاہا مگر پیشتر اس کے کہ وہ وار کر تا خدا نے اس کا ہتھیار اس سے چھین لیا۔پھر چوتھی مرتبہ ایک اور دشمن ظاہر ہوا۔اور اس نے بھی وار کرنا چاہا مگر خدا تعالیٰ نے وار کرنے سے پیشتر ہی اس دار کا خودا سے ہی شکار کر دیا۔تو چار متفرق طور پر وار ہوئے اور چاروں میں خدا تعالے نے غیر معمولی تائید اور نصرت فرمائی۔ایک دار دشمن نے کیا مگر وہ اُلٹ کر اسی پر پڑ گیا۔دوسرا دار بظاہر نشانے پر پڑا لیکن نقصان مجھے نہیں پہنچا بلکہ اسی کو پہنچا جس نے دار کیا تھا۔پھر تیسرے نے دار کیا مگر پیشتر اس کے کہ