خطبات محمود (جلد 13) — Page 144
محمود ۱۴۴ سال ۱۹۳۱ء مسلمانوں کی حکومت تھی اس وقت انہوں نے جنگ کے لئے تیاری کا خیال نہ کیا اور ست اور غافل ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سکتے اور بزدل بن گئے۔عورتوں کے دل چڑیا کے دل کی طرح ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تباہ ہو گئے اور دوسروں کے غلام بن گئے۔اپنے زمانہ حکومت میں اگر وہ دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار ہوتے تو یہ دن ہر گز نہ دیکھنے پڑتے اور ہمارے دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا کہ چونکہ ہمارا مذ ہب سچا ہے اس لئے ہم ترقی کر رہے ہیں۔یہ خیال مت کرو کہ چونکہ لڑائی نہیں۔اس لئے ہمیں مقابلہ کی تیاری کرنے کی ضرورت نہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ ملک میں کب جنگ شروع ہو جائے۔دوسری قومیں ہمیشہ لڑائی شروع کرنے کے اشارے کرتی رہتی ہیں۔پہلے بھی وہ ایسے اشارے کیا کرتی تھیں اور پھر ان کے ارادے پورے بھی ہو گئے۔اب پھر وہ ایسا ہی کرہی ہیں اس لئے ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔اور میں کہتا ہوں وہ دن آئے یا نہ آئے ہمیں بہر حال تیار رہنا چاہئے اور ہماری تیاری رائیگاں نہیں جائے گی۔ہم اس سے اور رنگ میں بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جنگ عظیم کے دنوں میں جو کار خانے بندوقیں تو ہیں اور دیگر جنگی اسلحہ جات تیار کیا کرتے تھے صلح کے بعد اب وہ دو سرے کام کرتے ہیں۔اس لئے اگر جنگ نہ بھی ہو تو بھی ہم اپنی تیاری کو تعلیم و تبلیغ کے کام میں لگا سکتے ہیں۔اگر جنگ نہ ہو تو بھی تعلیم و تبلیغ کا کام اور اقتصادی جنگ تو ہو رہی ہے اس میں ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس لئے ہماری جماعت کو چاہئے خود خُذُوا حِذْرَكُمْ کے حکم پر عمل کرے۔اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس پر کار بند کرنے کی کوشش کرے۔کیونکہ ان کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے۔اور اتنی بڑی قوم کی حفاظت ہم اسی صورت میں کر سکتے ہیں کہ اسے بھی تیار کریں اور اصل قوت تو خد اتعالیٰ سے ہی آتی ہے اس لئے دعا ئیں بھی کرنی چاہئیں اور اس سے امید رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم اس کے فضلوں کے وارث بن سکیں۔(الفضل ۱۹- اپریل ۱۹۳۱ء) البقرة :۱۵۰ ل التوبة : ٦١ النساء : ۷۲ بخاری کتاب الصلوة باب اصحاب الحراب في المسجد