خطبات محمود (جلد 13) — Page 9
خطبات محمود q سال ۱۹۳۱ء نے کبھی اپنی لڑکی کسی لولے لنگڑے ، بہرے اور اندھے کو دی ہے۔اگر نہیں تو کیوں نہیں۔کیا یہ حرام ہے؟ کیوں کبھی انہوں نے مجھ سے یہ فتوئی نہیں پوچھا کہ کسی ایسے مسلمان کو جس کی ناک کٹی ہوئی ہو ، دانت ٹوٹے ہوئے ہوں بھرا ہو ، لولا لنگڑا ہو اور اندھا ہوا سے لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔اگر وہ پوچھیں تو میں یہی کہوں گا کہ ہاں جائز ہے۔اور اگر جو از معلوم ہو جانے کے بعد وہ لڑکی دے دیں گے تو میں کہوں گا بیشک تمہیں سوال کرنے کا حق تھا مگر لڑکی کے معاملہ میں تو وہ کہیں گے طیب کا حکم ہے قرآن کریم میں آیا ہے فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاء یعنی طیب عورت سے نکاح کرو اور دوسری جگہ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِباس لب کہہ کر مرد اور عورت کو برابر کا درجہ دے دیا ہے پس عورت کے لئے بھی طیب مرد ضروری ہے جب وہاں جائز اور طبیب دونوں پہلو دیکھتے ہو تو یہاں کیوں صرف جائز کا لفظ تمہارے دل میں گدگدیاں لے رہا ہے۔جب تک کوئی ایسی رگ تمہارے اندر نہیں پھڑک رہی جو ان کی طرف مائل ہے۔کیا ایسے لوگوں میں سے کسی نے کبھی یہ فتوی بھی پوچھا ہے کہ گو بھی اور تسلیم وغیرہ کے چھلکے جو لوگ اتار کر باہر پھینک دیتے ہیں انہیں کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر پوچھے تو میں کہو نگاہاں جائز ہے اسی طرح اگر کوئی پوچھے کہ سوکھے ہوئے ٹکڑے جنہیں لوگوں نے باہر پھینک دیا ہو کھانے جائز ہیں ؟ تو میں کہونگا جائز ہیں کیونکہ اب وہ پھینکنے والے کا مال نہیں رہا۔مگر ایسے فتوے کبھی کسی نے نہیں پوچھے۔پس کیوں باقی جائز امور کے متعلق ایسے فتوے نہیں پوچھتے اور صرف غیر مبالکین کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا جاتا ہے۔اگر ایسے لوگ ہر جائز چیز کو استعمال کرنے والے ہوتے اور یہ فتوے بھی پوچھتے کہ فلاں کپڑا جو ایک ہی دن میں پھٹ جائے خرید کر پہننا جائز ہے یا نہیں چنے میں تدل ملا کر اس کی روٹی کھانا جائز ہے یا نہیں۔لیکن ہزاروں لاکھوں باتیں جو جائز ہیں ان کے متعلق نہیں پوچھتے تو پھر غیر مبالکین کے پیچھے نماز کے متعلق انہیں جائز نا جائز کی فکر اس قدر کیوں ہے۔ان کی تو یہ حالت ہے کہ شہروں کے شہر دیکھتے جاؤ کہیں کوئی نظر نہ آئے گا کجا تو ان کا یہ دعویٰ تھا ہم نانوے فیصدی ہیں اور کجا اب یہ حالت ہے کہ کئی علاقوں میں ان کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔پس ایسے لوگوں کے پیچھے نماز کے جائز یا نا جائز کی اہمیت ہی کیا ہو سکتی ہے۔لکھا ہے کوئی شخص حضرت ابن عمر کے پاس آیا اور آکر پوچھا۔اگر احترام میں مچھر مار دیا جائے تو کیا کفارہ ہے آپ نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور فرمایا تم خارجی ہو۔تم نے حضرت عثمان کو شہید کیا اور مجھ سے فتویٰ نہ پوچھا تم نے حضرت علی کو شہید کیا اور مجھ سے فتوی نہ پوچھا مگر آج مچھر مارنے کے لئے مجھ سے