خطبات محمود (جلد 13) — Page 78
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء حالات پر اثر ڈالنے والی چیز آب و ہوا ہوتی ہے۔یہ آب و ہوا ایک مسلمان، یک ہندو اور ایک عیسائی پر بالکل یکساں اثر کرتی ہے۔اگر ملک کی آب و ہوا کی وجہ سے کوئی خاص قسم کا نقص پیدا ہوتا ہے تو وہ سب پر یکساں اثر ڈالے گا۔اور اس سے جو برائی پیدا ہو گی وہ بھی قومی برائی کہلائے گی فردی نہیں۔پس ہمیں ایک یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آیا ہندوستان کی آب و ہوا میں ایسے نقائص تو نہیں جو تمام قوموں میں من حیث القوم پائے جاتے ہوں خواہ وہ عیسائی ہوں یا ہندو یا سکھ یا دو سرے مذاہب والے۔اگر ہم غور کریں گے تو ایسے نقائص کا اثر اور رنگ بھی ہمیں اپنے اندر نظر آجائے گا۔تیسری چیز یہ ہوا کرتی ہے کہ ہم دیکھیں ہمارے ارد گرد جو دو سرے مذاہب بستے ہیں علاوہ ملکی آب و ہوا کے ان میں کون کون سے قومی نقائص ہیں کیونکہ جس طرح ملک کی عام آب و ہوا سے قوم متاثر ہوتی ہے اسی طرح اپنی ہمسایہ اقوام اور مذاہب سے بھی اثر قبول کرتی ہے۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں والدین سچ بولنے والے ہوتے ہیں مگر ان کا بچہ جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ ہمسایہ لڑکوں سے جن کے ساتھ کھیلتا ہے اثر لیتا ہے اور گو اس کے ماں بات سچ بولنے والے ہوتے ہیں مگر ہمسایوں یا دوستوں اور ہمجولیوں کے بد اثرات کی وجہ سے وہ جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے اور اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر یہ بھی اسی بد عادت میں مبتلاء ہو جاتا ہے جس میں دوسرے اس کے ہمسایہ یا دوست مبتلاء ہوتے ہیں۔پس جب ہمسائیگی کا بھی اثر پڑتا ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ بحیثیت قوم ہندوؤں میں یا بحیثیت قوم سکھوں میں جو ہندوستان میں رہتے ہیں کیا بدیاں ہیں اور یہ کہ کیا ہم میں بھی ان کا اثر ہے یا نہیں۔اور اگر ہم غور کریں گے تو یقینا ان کا اثر بھی ہمیں اپنے اندر مل جائے گا۔چوتھی بات یہ ہوا کرتی ہے کہ کسی قوم میں اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے کوئی نقص پیدا ہو جائے۔ہر قوم کے اپنے اپنے مخصوص حالات ہوتے ہیں جن کے ماتحت اس میں بعض نیکیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور بعض کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں چنانچہ اس کی موٹی مثال میں اپنی جماعت کی پیش کرتا ہوں۔ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دور دور کے لوگوں کے قلوب کو فتح کر لیا ہے۔ادھر ہماری جماعت کا عقیدہ ہے کہ کبھی غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے اور چونکہ احمدی ایک ایک دو دو اکثر مقامات پر پائے جاتے ہیں اس لئے من حیث القوم احمدیوں میں یہ بات پیدا ہو گئی ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھ لیتے ہیں۔اب ان میں یہ نقص پیدا ہو گیا ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھنے کی طرف بہت جلد راغب ہو جاتے ہیں۔یہ اس لئے پیدا ہوا کہ چونکہ اکثر جگہ احمدیوں کی اپنی