خطبات محمود (جلد 13) — Page 67
خطبات محمود 46 8 عید میں عید (فرموده ۲۰ فروری ۱۹۳۱ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔بعض دنوں کو بعض زمانوں سے مشابہت ہوتی ہے اور اس مشابہت کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ مبارک ہو جاتے ہیں۔حج ایک عبادت ہے اور بہت بڑی عبادت ہے ساری دنیا کے مسلمان جنہیں خدا تعالیٰ توفیق دے اس موقع پر جمع ہوتے ہیں۔اور اللہ اس کے رسول اس کے دین اس کی کتاب اور اس کی عظمت کے گھر سے عقیدت اور اخلاص کا اظہار کرتے ہیں اپنے بھائیوں سے اخوت و محبت اور مخلصانہ خیالات ظاہر کرتے ہیں۔ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں۔جب یہ حج کا دن جمعہ کے دن آئے تو حج اکبر کہلاتا ہے یعنی اس دن دو عید میں جمع ہو جاتی ہیں۔دو برکتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔اسی طرح آج بھی ہمارے لئے دو عید میں جمع ہو گئیں ایک عید الفطر اور دوسری عید الجمعہ پس اس لحاظ سے یہ دن اور بھی زیادہ برکتوں اور افضال کا موجب ہو گیا۔اور پھر اس لحاظ سے اور بھی اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جبکہ یہ دن ایک خاص زمانہ پر دلالت کرتا ہے اس لحاظ سے اس دن کی پوری تمثیل اگر کسی قوم کے سامنے آسکتی ہے تو وہ صرف ہماری ہی جماعت کے سامنے آسکتی ہے۔کیونکہ آج کا دن بتا رہا ہے کہ عید کے دن ایک اور عید بھی آسکتی ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں محمدیت کے اندر احمدیت کی عید آئی ہے۔رسول کریم میں کا زمانہ تو قیامت تک ہے اس لئے آپ کے ذریعہ جو عید قائم ہوئی وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتی بد قسمت لوگ اپنے لئے خود ختم کر لیں تو کر لیں مگر انکی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے عید کے دن کسی کے گھر ماتم ہو جائے اس سے عید نہ جاتی رہے گی۔اسی طرح اگر مسلمان کہلانے والے