خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 660 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 660

خطبات محمود ۶۶۰ سال ۱۹۳۲ء ہمارے تعاقب میں آرہا ہے۔رسول کریم و درخت کے نیچے سور ہے یا اونگھ رہے تھے کہ دشمن نے تلوار کھینچ کر آواز دی مگر نہ معلوم اسے کیا خیال آیا کہ اس نے جگا کر پوچھا بتاؤ اب تمہیں کون میرے حملہ سے بچا سکتا ہے۔آپ نے فرمایا اللہ۔جس یقین کے ساتھ ، جس وثوق کے ساتھ جس عبادت اور استعانت کے خیال کے ساتھ آپ کی زبان سے یہ فقرہ نکلا اس کا یہ اثر ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ منزلیں مارتا ہوا اپنی قسم پوری کرنے کے لئے آیا تھا اور باوجود اس کے کہ وہ جانتا تھا کہ اپنی زندگی میں سے یہ پہلا موقع حاصل ہوا ہے اس کا ہاتھ لرز گیا اور تلوار ہاتھ سے گر گئی۔اس پر رسول کریم میں یہ کہ ہم نے وہی تلوار ہاتھ میں اٹھائی اور فرمایا۔بتا اب تجھے میرے حملہ سے کون بچا سکتا ہے۔اس شخص کو رسول کریم میں اللہ سے سن کر بھی سمجھ نہ آئی اور کہنے لگا آپ ہی رحم فرما ئیں۔رسول کریم میں اللہ نے فرمایا جاؤ چلے جاؤ تمہارا خون اس قابل نہیں کہ محمد سے بہائے۔اور آپ سمجھ گئے جس شخص کے دل میں خدا نہیں اس کی زبان پر بھی وہ نہیں آسکتا۔یہ اس زندہ خدا کی عبادت کا کرشمہ تھا جسے اسلام نے پیش کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں مصنوعی عبادات کا نتیجہ بھی دیکھ لو۔فتح مکہ کے موقع پر تمام کفار سمجھتے ہیں کہ اب ان کے لئے کامیابی کا کوئی راستہ نہیں اور یہ کہ تمام دروازے ان کے لئے بند ہو چکے۔ایسے موقع پر میں ایک ایسے فرد کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں جو کفر میں بہت بڑھا ہوا تھا۔رسول کریم می فتح مکہ کے وقت عورتوں سے بیعت لے رہے تھے۔اور آپ کے ارد گرد ہجوم تھا آپ نے اعلان کر دیا تھا کہ بعض شریروں کو مکہ بھی پناہ نہیں دے سکتا وہ جہاں بھی کہیں مل جائیں انہیں قتل کر دیا جائے۔ان میں سے ایک ہندہ بھی تھی۔بیعت لیتے وقت آپ نے کہا کہو ہم شرک نہیں کریں گی عورتوں نے کہا ہم شرک نہیں کریں گی۔اس پر ہندہ جو بڑی دلیر اور بہادر عورت تھی اور جس نے بعد میں اپنی جرات اور بہادری کا ثبوت بھی پیش کر دیا اور جو چوری چھپے بیعت کے لئے آئی ہوئی تھی۔جب رسول کریم میں یا نہ ہی ہم نے یہ اقرار لینا چاہا کہ ہم شرک نہیں کریں گی تو وہ بول اٹھی کہ کیا اب بھی کوئی شرک کر سکتا ہے جبکہ ہم نے سارا زور لگایا مگر تو اکیلا ہو کر جیت گیا اور ہمارے معبود ہمارے کسی کام نہ آئے۔کیا اتنے بڑے نشان کے بعد بھی کوئی شرک پر قائم رہ سکتا ہے۔رسول کریم میں نے فرمایا کون ہے؟ ہندہ ہے ؟ ہندہ نے عرض کیا ہاں ہندہ - جانتی تھی کہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اس پر کوئی تلوار نہیں اٹھ سکتی۔پس اس نے اپنے اسلام کا اظہار کر دیا۔یہ ہندہ وہ عورت تھی جو جنگ پر جاتی اور قبیلے والوں کو لڑائی کے لئے برانگیختہ کیا کرتی حتی کہ احد کی