خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 650 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 650

خطبات محمود ۶۵۰ سال ۱۹۳۲ء تو تم یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ سلام نہیں کرتے مگر اپنے آپ کو منافق ثابت کر رہے ہو۔پس یہ طریق غلط ہے۔اگر تم دیکھو کہ نقص ہے اور ایک شخص کا بھی نام لے لو جس میں وہ پایا جاتا ہے تو میرے دل میں اس کے متعلق گھبراہٹ ہو گی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بسا اوقات میں اس خیال سے کہ چھوٹی بات ہے اسے جانے دوں۔خاموش رہوں یا یہ جواب دیدوں کہ ہم اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں مگر میرے دل میں اسے سن کر حرکت ضرور پیدا ہوگی۔لیکن اگر یوں کہو کہ پانچ ہزار میں یہ نقص ہے اور نام کسی کا نہ لو تو مجھ پر اس کا کوئی اثر نہ ہو گا بلکہ مجھے یقین ہو جائے گا کہ یہ شکایت جھوٹی ہے۔شکایت کا صحیح طریق یہ ہے کہ کہا جائے فلاں نے ایسا کیا ہے۔اور اگر یہ نہیں کرنا چاہے تو پھر خاموش رہو۔اگر اصلاح چاہتے ہو اور تمہارے خیال میں وہ چپ رہنے سے ہو سکتی ہے تو پھر اسے میرے تک پہنچا نا غلط ہے۔اور اگر پہنچانا ضروری سمجھتے ہو تو پھر صحیح بات پہنچاؤ ایسی شکایت کرنے والوں کو میں قضاء کے طور پر جھوٹا کہتا ہوں۔لیکن ممکن ہے بعض ایسے لوگ واقعہ میں بھی موجود ہوں جو سلام نہ کہتے اور سلام کا جواب نہ دیتے ہوں۔ایسے لوگوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ طریق عزت کا موجب نہیں ہو سکتا۔عزت دو طرح کی ہوتی ہے بندوں کے نزدیک اور خدا کے نزدیک کیا تم سمجھتے ہو کہ جو شخص تمہیں سلام کرے اور تم اس کا جواب نہ دو تو وہ تمہیں بڑا سمجھے گا اور گھر جا کر کے گا کتنا بڑالا ئق اور معزز آدمی ہے میں نے السّلامُ عَلَيْكُم کیا مگر اس نے جواب تک نہیں دیا نہیں بلکہ کہے گا۔کیسا نا معقول اور پاجی ہے میں کوئی اس کا ماتحت نہ تھا۔کوئی خوشامدی نہ تھا۔میں نے سلام کیا اور اس کا جواب تک نہ دے سکا۔پھر اللہ تعالیٰ کا رسول اسے ضروری قرار دیتا ہے۔اور تم نا فرمانی کرتے ہو۔تو کیا جب خدا کے سامنے جاؤ گے تو وہ یہ کہے گا کہ میرا کیسا معزز بندہ آتا ہے لوگ اسے سلام کرتے اور یہ جواب تک نہیں دیا کرتا تھا ہرگز نہیں۔گویا اس طرح بندوں کے نزدیک بھی ذلیل رہو گے اور خدا کے نزدیک بھی پس اگر یہاں کوئی ایسا آدمی ہے جو سلام نہیں کرتا یا سلام کا جواب نہیں دیتا تو میں اسے بتاتا ہوں کہ یہ طریق غلط ہے۔رسول کریم اللہ کو سلام اس قدر پیارا تھا کہ آپ نہ صرف خود کرتے۔بلکہ دوسروں کو بھی تاکید کرتے اور فرماتے کہ جو سلام کرتا ہے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور آدمی کا دماغ ہاتھ کان مشغول ہوں تب بھی وہ مونہہ سے سلام کہہ کر دس نیکیاں حاصل کر سکتا ہے گویا دوسرے کام میں مشغول ہوتے ہوئے بھی وہ دس نیکیاں حاصل کر سکتا ہے۔فرض کرو تم دس گناہ کرتے