خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 639

۶۳۹ سال ۱۹۳۲ء میں دلیری اور بہادری دکھائیں لیکن جرأت کا مفہوم لٹھ باز بنا نہیں کیونکہ اگر جرأت کا یہی مفہوم لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے لاکھوں نیک بندے اس نیک صفت کے دکھانے سے محروم رہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ان صفات سے محروم نہیں رہتے۔پس جب بھی نیکی کا موقع ملے ، عواقب اور خطرات سے بے پرواہ ہو کر اسے اختیار کرلینا اور انجام سے نڈر ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں پر چلنا حقیقی جرات اور بہادری ہے۔اسی وجہ سے اللہ تعالی کے انبیاء کا نام جری ہوتا ہے کیونکہ وہ اس قسم کی نیکیوں میں سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔الفضل ۸- دسمبر ۱۹۳۲ء) لے تذکرہ صفحہ ۷۹ - ایڈیشن چهارم بخاری کتاب القدر باب العمل بالخواتيم