خطبات محمود (جلد 13) — Page 629
سال ۱۹۳۲ء خطبات محمود تعالی کی آواز پر لبیک کہہ کر ایک جگہ جمع ہونے کو تیار ہیں۔لیکن حج ان آیام میں بہت سے لوگوں کے لئے مشکل ہو گیا تھا۔کیا بلحاظ اس کے کہ اس علاقہ میں امن و امان کا وہ انتظام نہ تھا جو حج کے لئے ضروری ہے۔اور کیا بوجہ اس کے کہ اس مقام میں ایسا نظام نہیں جس سے ان فوائد کو حاصل کیا جاسگے جو حج کا اصل مقصود ہے۔اور کیا بوجہ اس کے کہ خدا تعالٰی ہندوستان کے لوگوں سے یہ نسبت دوسرے ممالک کے لوگوں کے زیادہ کام لینا چاہتا تھا۔چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں۔حالانکہ اللی تحریکات پہلے غرباء میں ہی پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔اس لئے اللہ تعالٰی نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا۔وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تاوہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہو سکیں اسلام کے ابتدائی دور میں زیادہ ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والے عرب تھے۔اور وہ آسانی سے مکہ میں پہنچ سکتے تھے اس لئے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے حج کے موقع پر بہتر سے بہتر ذرائع حاصل تھے۔لیکن اب نہ وہ تحریک وہاں باقی ہے اور نہ دنیا کے تمام لوگ وہاں پہنچ سکتے ہیں اس لئے حج کی عبادت کا حصہ تو بے شک باقی ہے اور وہ رہتی دنیا تک باقی رہے گا جس طرح نماز کا فریضہ ہے اسی طرح یہ بھی فرض ہے کہ ہر صاحب استطاعت مسلمان مقرر کردہ دنوں میں وہاں اللہ تعالی کی عبادت کرے لیکن مکہ مکرمہ میں اب چونکہ نہ کوئی ایسی جماعت تھی جو اشاعت اسلام کی ذمہ وار قرار دی گئی ہو اور نہ ہی اب عربوں کی ایسی حالت اور نظام تھا کہ وہ تبلیغ اسلام کر سکیں۔ایسا نظام اب ہندوستان میں ہی ہے اور اشاعت اسلام کا درد رکھنے والی قوم بھی اب نہیں ہے اس لئے اللہ تعالٰی نے ایک ظلی حج مقرر کیا اور اس کا مرکز قادیان میں رکھا۔جب تک وہ نظام جو تبلیغ کے لئے مقرر ہے یہاں رہیگا اور جب تک قادیان اس کا مرکز ہے اور جب تک ہندوستان کے لوگ اپنی اس ذمہ داری کو سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں رُشد و ہدایت پھیلانے کا ذمہ دار بنایا ہے اس وقت تک علاوہ ان علمی فوائد کے جو جلسہ کے موقع پر تقریریں سننے سے حاصل ہوتے ہیں یہاں آنے والے ہر شخص کو ثواب حاصل ہو گا اور اگر خدانخواستہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اس نعمت کو بھلا دیا اس کی قدر نہ کی اور خدا تعالیٰ نے اس کام کا مرکز کسی اور مقام کو قرار دے دیا تو پھر چو نکہ اس میں عبادت کا ا نہیں وہ صرف مکہ مکرمہ سے ہی مخصوص ہے اس لئے یہ صرف ایک رسم رہ جائے گی اور حصہ ثواب کا حصہ جاتا رہے گا۔