خطبات محمود (جلد 13) — Page 626
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء کچھ کرنا پڑتا وہ خود ہی ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر دیتے۔پھر خدا نے ان کو تو کل کا مقام عطا فرمایا تھا۔وہ نہایت ہی سیر چشم واقع ہوئے تھے۔کبھی اتنے عرصے میں کہ وہ قادیان میں رہے مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ بھی اپنی ذاتی ضروریات کے لئے مجھے کسی قسم کی تحریک کی ہو۔اور میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے سامان پیدا فرما دیا کرتا تھا کہ خود بخود ان کی ضروریات پوری ہو جاتیں۔کیونکہ وہ شخص جو خدا پر توکل کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کے لئے لوگوں کے دلوں میں خود الہام کرتا ہے کہ وہ اس کی مدد کریں۔غرض اللہ تعالٰی الہام کے ذریعہ ان کی امداد بھی کرا دیتا تھا۔میں نے الہام کے بارے میں جس قدر اپنی جماعت کے اشخاص دیکھتے ہیں ان میں سے میں نے انہیں زیادہ ثابت قدم غیر متزلزل اور مضبوط دیکھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اور بھی ایسے لوگ جماعت میں موجود ہوں مگر جتنوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے سب سے زیادہ ثابت قدم میں نے انہیں کو دیکھتا ہے۔الہام ہماری جماعت میں سے اور بھی بہت سے لوگوں کو ہوتے ہیں مگر بعض ان میں سے ایسے ہیں جو ایک وقت آکر ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔اور پھر کئی تو ایسے بھی ملم ہیں جو مجھے بھی دھمکیاں دینے لگ جاتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ میں نے کبھی اپنے الہامات یا کشوف بیان نہیں کئے اس لئے مجھے الہامات ہوتے ہی نہیں اور اس طرح وہ اپنے کشوف اور الهامات سنا سنا کر مجھے ڈرانا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن شریف کا جو علم دیا ہے اس کے ماتحت انسانوں کی دھمکیاں مجھ پر اثر ہی نہیں کرتیں۔چاہے دھمکی دینے والا معلم کے لباس میں آئے چاہے مامور کے لباس میں، چاہے بادشاہ کے لباس میں اور چاہے فقیر کے لباس میں۔میں جانتا ہوں کہ کلام اور کلام پانے والوں کے کیا درجے اور مراتب ہوتے ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان درجوں کو خوب سمجھتا ہوں۔اس لئے مجھ پر ہمیشہ وہی چیز اثر کرتی اور اتنا ہی اثر کرتی ہے جو اثر والی ہو اور جتنی اس میں تاثیر پائی جاتی ہو۔اس سے اوپر اور نیچے مجھے پر کوئی چیز اثر نہیں ڈال سکتی۔مولوی عبد الستار صاحب افغان کو میں نے دیکھا کہ انہیں کثرت سے الہامات ہوتے تھے۔مگر باوجود اس کے وہ خلافت کا انتہائی ادب کرتے اور سوائے ایک دفعہ کے میرے اور ان کے درمیان کبھی غلط فہمی پیدا ہونے کا موقع نہیں آیا۔وہ بھی اس طرح کہ ایک شخص نے میرے پاس بیان کیا کہ مولوی صاحب ایسی ایسی باتیں بیان کرتے ہیں۔میں نے کہا کہ مولوی صاحب ایسا نہیں کہتے ہوں گے تمھیں غلطی لگی ہوگی۔چنانچہ اس کے فور ابعد جب مولوی صاحب کو پتہ لگا تو انہوں نے میرے پاس تردید کی اور کہا کہ میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔پس