خطبات محمود (جلد 13) — Page 608
خطبات محمود ۶۰۸ سال ۱۹۳۲ء بھی اپیل کر دیتے ہیں کہ اگر آپ اپنے مذہبی خیالات کا اظہار نہ کیا کریں تو بہت اچھا ہے۔حالانکہ صداقت کے حامل اور سچائی سے بھرے ہوئے مذہبی خیالات کا اظہار تو ایک دوائی ہے اور دوائی بھی شاید کڑوی اور لوگ آسانی اور دلی رغبت سے اسے لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔لیکن کیا محض اس لئے کہ بیمار دوائی کو دلی خوشی اور رغبت سے نہیں پیتا، ڈاکٹر جو اس مریض کی زندگی اس میں دیکھتا ہے وہ دوائی دینا بند کر دے گا۔کون عظمند اس کو پسند کرے گا کہ بچے کو رونے سے بچانے کے لئے اسے آگ کے ساتھ کھیلنے دیا جائے۔کیا ایسے وقت میں جبکہ بچہ آگ کی طرف جانے کے لئے ضد کرے ایک شفیق باپ اس امر کو مد نظر ر کھے گا کہ بچے کا دل میلا نہیں کرنا چاہئے اور اس کی خواہش کے مطابق اسے آگ میں پڑنے دیا جائے یا وہ بچے کے چیخنے چلانے کے باوجود اس کو آگ کی طرف جانے سے روک دے گا۔غرض کچے مذہبی خیالات بھی دنیا کی روحانی بیماریوں کا علاج ہیں۔پس دنیاوی ظلمتوں میں گھرے ہوئے اور روحانی اور اخلاقی بیماریوں کے مریضوں کی ناپسندیدگی کے باوجود میں اپنی جماعت کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ ان کا فرض ہے کہ وہ یہ مجرب نسخہ ایسے لوگوں کو دیں اور نہ یہ کہ ایک دفعہ دے کر بند کر دیں بلکہ اس عظمند ڈاکٹر کی طرح جو اپنے مریض کو اس وقت تک دوائی دینا بند نہیں کرتا جب تک اسے صحت نہیں ہو جاتی اسی طرح آپ بھی ایسے لوگوں کے کانوں میں اپنے خیالات ڈالتے رہیں یہاں تک کہ ان کو دنیاوی آلائشوں سے پاک وصاف کر دیں۔بے شک یہ کام آسان نہیں بلکہ اپنی تحمیل کے لئے ایک قسم کے جنون کو چاہتا ہے۔جب تک دیوانہ وار انسان اس کام نہ لگ جائے اور پاگلوں کی طرح اپنے ان خیالات کو جو بچے ہیں پھیلانے میں مشغول نہ ہو جائے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔دیکھو انبیاء کو ہمیشہ مجنون کہا گیا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا واقعی وہ مجنونوں والی باتیں کرتے تھے نہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کی کامیابی کے لئے دیوانہ وار لگ جاتے تھے۔اور ایسے نڈر ہو کر اور فوق العادت ہمت و استقلال سے تبلیغ کرتے تھے کہ لوگوں کو اچنبہ ہو تا تھا لیکن چونکہ اس حقیقت کی انہیں خبر نہ ہوتی تھی کہ خدا کی مدد سے یہ ایسا کر رہے ہیں اس لئے اس کی کوئی اور توجیہہ نہ پاکر یہ کہہ دیتے تھے کہ مجنون ہے۔اگر انبیاء اس جنون سے کام نہ لیتے تو دنیا ہدایت سے محروم رہ جاتی۔پس بچے مذہبی خیالات کو پھیلانے کے لئے ایک قسم کے جنون کی ضرورت ہے لیکن ایسی دیوانگی نہیں جو کام کو ہی خراب کر دے بلکہ ایسا جنون جس کے متعلق کہا جائے دیوانہ بکار خویش ہوشیار۔ایسے موقع پر مجھے حضرت خلیفہ اول کی زندگی کا ایک واقعہ یاد آجایا کرتا ہے۔ایک شخص