خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 53

خطبات محمود ۵۳ سال ۱۹۳۱ء بعد تم بھی کسی تحریک کے محتاج نہ رہو گے اور خود بخود دلی شوق سے اس میں پوری پوری سرگرمی دکھاؤ گے۔اور خدا کے لئے ایک سال دینا کوئی بڑی بات نہیں۔بلکہ اب تو گیارہ مہینے ہی رہ گئے ہیں۔اگر تم اس طرف متوجہ ہو گے تو اللہ تعالیٰ بہت برکت ڈالے گا جس طرح وہ ہمارے ہر کام میں برکت ڈال رہا ہے۔اس سال دیکھ لو لوگوں کو کس قدر مالی مشکلات رہی ہیں۔مگر چونکہ جماعت ایک نظام کے ماتحت ہے اس لئے باوجو د مالی مشکلات کے اس سال کا چندہ گذشتہ سال سے زیادہ ہے۔حالانکہ اس سال میں زمیندار اجناس کے سنتے ہونے کی وجہ سے چندوں میں پورا پورا حصہ نہیں لے سکے۔ان کے لئے یہ ایسا سال تھا کہ بڑے بڑے آسودہ حال زمینداروں کو فاقہ کشی کی نوبت آگئی کیونکہ بھاؤ گر گئے ہیں۔مگر نظام کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتنا فضل کیا کہ ہماری مالی حالت میں ترقی ہو گئی۔اور اگر پورا پورا کام کیا جاتا تو شاید پچھلے سال کا قرضہ بھی اتارا جا سکتا بلکہ ہم کچھ جمع بھی کر لیتے۔پس اسی طرح اگر دوست تبلیغ کے کام میں لگ جائیں تو میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئندہ جلسہ سالانہ پر وہ ایک غیر معمولی کامیابی کا مشاہدہ کریں گے۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وقت کی قدر کریں اور یہ سمجھ لیں کہ اسلام اس وقت غیر معمولی مصائب میں سے گزر رہا ہے اور چونکہ ہماری جماعت اس کی مدافعت کے لئے کھڑی ہے اس لئے اسے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں دریغ نہ کرنا چاہئے۔وہ دیوانہ دار تبلیغ میں لگ جائیں اور کسی اور طرف توجہ نہ کریں۔ایک بزرگ کا قول مشہور ہے وہ کہتے ہیں میں نے اپنے ایک مرید کو ایک بدی میں مبتلاء دیکھا تو مجھے بہت شرم آئی اور اس سے نفرت پیدا ہو گئی۔مگر اس نے کہا جناب میں نے آپ کی صحبت میں رہنے کے باوجود جب اپنے فسق میں کمزوری نہیں آنے دی تو آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے تقویٰ میں کمزوری نہ آنے دیں۔پس اگر دنیا گمراہی میں بڑھ رہی ہے تو ہمیں ہدایت کی اشاعت میں ہرگز سستی نہ کرنی چاہئے۔سچی بات یہی ہے کہ تقویٰ ہی اصل چیز ہے۔کفر کی مثال اس عمارت کی ہے جو ریت کے تو وہ پر کھڑی ہو۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ارادوں میں استقلال میں ہمت میں کوشش میں اپنے فضل اور رحمت و کرم اور اپنی برکت میں برکت دے۔آمین۔ا نفضل -۱۳- فروری ۱۹۳۱ء)