خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 561

خطبات محمود ۵۶۱ سال ۱۹۳۲ء جب ایک بوجھ کے نیچے دبا ہوا انسان اور زیادہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے تو جہاں اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑھتی ہے ، وہاں غافلوں کی طرف اس کا غضب بھی حرکت کرتا اور ان کے نفاق کو بالکل برہنہ کر دیتا ہے۔پس میں ان کو جوست ہیں اور ان کو بھی جو اپنے آپ کو نمبردار سمجھتے ہیں کہتا ہوں کہ ایک دن وہ بھی مرکز اللہ تعالٰی کے پاس جانے والے ہیں۔یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں۔اس میں نہ پہلے لوگ ہمیشہ زندہ رہے اور نہ وہ ہمیشہ رہیں گے۔مونہہ سے کہہ دینا کہ ہم تنگدست ہیں یہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ہم نے کروڑ پتی بھی ایسے نہیں دیکھے جو اپنی حالت پر خوش ہوں۔ہم نے لاکھ پتی ایسے دیکھے ہیں جو اپنی تنگدستی کا رونا روتے ہیں۔انہیں یہ شکوہ ہوتا ہے کہ وہ کروڑ پتی کیوں نہیں ہو جاتے۔جب ایک کروڑ حاصل ہو جائے تو پھر یہ حسرت ہوتی ہے کہ دو سرا کروڑکیوں حاصل نہیں ہوتا۔اور جب دو کروڑ ہو جائے تو تیسرے کروڑ کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔غرض یہ رونا تو دل سے تعلق رکھتا ہے ، روپوں سے نہیں۔اس کے مقابلہ میں بعض اخلاص والے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کچھ بھی نہیں رکھتے مگر وہ ایسے خوش ہوتے ہیں گویا انہیں سارے جہان کی بادشاہت میتر ہے۔ایک دفعہ یہاں کے ایک غریب شخص نے مجھ سے اصرار شروع کیا کہ میں اس کی دعوت منظور کروں۔مجھے اس کی دعوت منظور کرنے سے حجاب آتا کیونکہ میں سمجھتا کہ اسے خود تو کئی کئی دن کے فاقے آتے ہیں اگر میری دعوت کرے گا تو ان فاقوں میں اور اضافہ ہو جائے گا۔کیونکہ آخر کہیں سے لے کر ہی خرچ کرے گا اس لئے میں دعوت منظور نہ کرتا۔مگر کچھ مدت کے بعد جب اس کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو میں نے دیکھا کہ اب میرا انکار اس کی دل شکنی کا موجب ہو گا۔چنانچہ میں نے اس کی دعوت منظور کرلی۔اتفاقا اس دن ہمارے ایک دوست آئے اور دعوت میں شریک ہوئے۔ان کی یہ خصوصیت ہے کہ جو ان کے دل میں آتا ہے فوراً کہہ دیتے ہیں۔پنجابی زبان میں ایسے لوگوں کو مونہہ پھٹ کہتے ہیں۔جب دعوت کھا کر باہر آئے تو وہ مجھ سے کہنے لگے۔کیا آپ ایسے لوگوں کی دعوت بھی قبول کر لیتے ہیں۔میں نے کہا آپ اس شخص کے دل کی حالت کیا جائیں۔سالہا سال سے یہ اصرار کرتا چلا آرہا تھا کہ میں اس کی دعوت قبول کروں۔اور میں جانتا تھا کہ اس کے ہاں دعوت کھانا اس پر ظلم کرنا ہے۔مگر اس کے اصرار کو دیکھ کر میں سمجھا کہ اب دعوت کو رد کرنا اس سے بھی زیادہ ظلم ہے۔پس کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تنگی کی حالت میں بھی دل میں بشاشت پاتے ہیں اور غریب ہو کر بادشاہوں سے بھی زیادہ وسیع