خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 556

خطبات محمود ۵۵۶ سال ۱۹۳۲ء تقویٰ اخلاص ، محبت اور قربانی کی ان لوگوں میں کمی ہے۔جب کبھی قربانی کا مضمون بیان ہو رہا ہو تو تم دیکھو گے کہ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذَان وہ ایچ بیچ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ہاں جب اپنے فائدہ کی بات ہو تو پھر سب سے بڑے مدعی وہی بن جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم ایسے اور ہم ایسے۔یہ دونوں قسم کے لوگ ہمارے اندر بھی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ جہاں ہم مخلصین کو بڑھانے کی کوشش کریں ، وہاں دوسروں کو گھٹانے کی کوشش کریں۔نفاق قوم کے لئے ناسور ہوتا ہے۔جس طرح ناسور جس جسم میں پیدا ہو جائے اسے گھلاتا چلا جاتا ہے اسی طرح نفاق بھی جس شخص یا جس قوم میں ہو اسے ہلاکت کے قریب کرتا چلا جاتا ہے۔تم نے ناسور کا مریض دیکھا ہو گا۔بظاہر اس کا سارا جسم اچھا ہو تا ہے اور کسی ایک مقام پر باریک سا سوراخ ہوتا ہے۔کبھی ہاتھ پر اور کبھی اور کسی حصہ جسم پر۔لیکن وہ ذرا ساز خم اندرہی اندر انسان کو گھلاتا چلا جاتا ہے۔اگر ایک جگہ سے اچھا ہو جائے تو دوسری جگہ سے نکل آتا ہے اور اگر وہاں سے بھی اچھا ہو جائے تو تیسری جگہ سے پھوٹ پڑتا ہے۔یہی کیفیت نفاق کی ہوتی ہے۔بظاہر ایسا شخص بالکل تندرست معلوم ہوتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ یہ معمولی بیماری ہے لیکن وہ ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ جس طرح ناسور کی بیماری روح اور جان کو گھلائے چلی جاتی ہے۔تندرستوں کے زمرہ سے نکال دیتی اور موت کے قریب کر دیتی ہے۔اسی طرح نفاق کا بیمار بھی روحانی موت کے قریب ہو تا چلا جاتا ہے اور روحانی زندگی سے لطف اٹھانے کا موقع اسے میسر نہیں آتا۔بظاہر اس کے تمام حالات درست ہوتے ہیں۔لیکن وہ چھوٹا سا نظر آنے والا آزار روزانہ اس کی حالت کو بد سے بد تر بناتا چلا جاتا ہے۔یاد رکھو نفاق اور ایمان میں لمبا فاصلہ نہیں ہوتا۔بہت لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید منافقوں کے سرسینگ ہوتے ہیں۔وہ خود نفاق کی مرض میں مبتلاء ہوتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ نفاق کیا ہوتا ہے۔دراصل نفاق بھی جنون کی طرح ہوتا ہے جس طرح پاگل آدمی کبھی یہ نہیں مانتا کہ وہ پاگل ہے بلکہ وہ ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں دوسرے پاگل ہیں۔اور جب اسے علاج کے لئے کہو تو وہ کہے گا میں بالکل اچھا ہوں اس طرح منافق سمجھتا ہے کہ میں منافق نہیں۔اور خیال کرتا ہے کہ میں مصلح ہوں، حالانکہ وہ مفسد ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ جب منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں مفسد نہیں۔غرض نفاق اور ایمان میں بہت چھوٹی سی دیوار ہے۔اتنی چھوٹی کہ وہ ذرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ