خطبات محمود (جلد 13) — Page 552
خطبات محمود ۵۵۲ 64 سال ۱۹۳۲ء جماعت کے مخلصین سے قربانیوں کا مطالبہ (فرموده ۲۶- اگست ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔تمام انسانی ترقیات اس تعلق اور فرمانبرداری کے ساتھ وابستہ ہیں جو انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ پیدا کر تایا اس کے احکام کی بجا آوری میں جس کا نمونہ دکھاتا ہے۔مونہہ کے خالی الفاظ کبھی انسان کے کام نہیں آتے۔اور صرف ظاہری اخلاص انسان کو کچھ بھی نفع نہیں دے سکتا۔قرآن گریم ہے معلوم ہو تا ہے کہ رسول کریم مسلم کی تعریف میں منافق لوگ وہ کچھ کہا کرتے تھے جو مؤمن بھی نہیں کہتے تھے۔اور بسا اوقات وہ اپنے اخلاص کو ایسے الفاظ میں ظاہر کرتے تھے کہ ایک ناواقف سکنے والا انسان دھوکا کھا جاتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ شاید ان سے بڑھ کر او رکوئی مومن ہیں لیکن جب کام کا وقت آتا جب قربانی کا مطالبہ کیا جاتا جب مال اور جان خطرے میں پڑ جاتا اس وقت وہ لوگ بالکل علیحدہ ہو جاتے اور اس طرح آنکھ پھیر لیتے کہ گویا ان کا رسول کریم مین سے کبھی تعلق ہی نہ تھا۔اللہ تعالی کے فضل سے رسول کریم میں اللہ کو جو رعب حاصل تھا اور جسکے متعلق آپ خود کو فرماتے تھے کہ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ مجھے ایسا رعب دیا گیا ہے کہ ایک مہینہ کی مسافت سے ہی اس کا اثر محسوس ہونے لگتا ہے۔اس کی بناء پر منافق یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَا مُهُنَا قَاعِدُونَ کے کہ جانو اور تیرا رب دشمنوں سے لڑائی۔کرو ہم یہیں بیٹھ ہیں۔لیکن عملاً انہوں نے نہ ایک دفعہ بلکہ بارہا ایسا کر کے دکھایا۔وہ مونہہ سے تو فرمانبرداری کاری اظہار کرتے تھے لیکن انہی میں سے وہ لوگ تھے جو احد کی جنگ کے موقع پر شہر