خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 508

محمود ۵۰۸ سال ۱۹۳۲ء بات ہے۔کیونکہ وہ کسی شخص کی زندگی اور موت کے فوائد بہت زیادہ ہو نا ہے۔پس میں نے تو اس امر پر بارہا غور کیا ہے مگر میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح مار سکتا ہے۔اور اگر فی الواقعہ دنیا میں قتل کے واقعات نہ ہوتے تو میں یہی سمجھتا کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کر سکتا ہے۔لیکن اس فعل کی برائی اور بھی زیادہ گھناؤنی ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ہزاروں میل سے آیا ہو وہ ایک ملک کی خدمت کے لئے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے جدا ہو کر آیا ہو اور پھر اسے اچانک ہلاک کر دیا جائے۔حکام کو قتل کرنے والوں کی طرف سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انگریز انصاف نہیں کرتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ انصاف کرنے کی کوشش کرتے غریبوں کی خبر گیری کرتے اور قحط کے ایام میں ہر طرح کی آسائش بہم پہنچانے کا انتظام کرتے ہیں۔مگر باوجود اس کے ایک عورت یا مرد اٹھتا ہے اور وہ گولی سے حاکم کو مار دیتا ہے۔اس قسم کا قتل میری سمجھ میں کبھی آیا ہی نہیں اور اگر میری قلبی کیفیات کا اندازہ لگایا جائے تو میرے نزدیک تو ایسا فعل شیطان سے سرزد ہونا بھی مشکل ہے۔مگر نہ معلوم وہ لوگ شیطان سے بھی بڑے ہو گئے یا ان کو کیا ہو گیا کہ انہیں اس قسم کے افعال پر دلیری ہوتی چلی جارہی ہے۔پھر ان جرائم کیوجہ سے نتیجہ بھی خراب ہی نکلتا ہے۔تم کسی کو ایک جرم کی اجازت دے دو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے جرلم بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ایک شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے کہ گوشت کی لذت گوشت کھا کر تم نہیں بھول سکتے بلکہ گوشت ترک کر کے بھول سکتے ہو۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے کانگرس والے ایسا کرتے ہیں مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ کانگرس والوں اور ان لوگوں میں واسطہ ضرور ہے جو اس قسم کے افعال کرتے ہیں۔اور جہاں میں نے یہ کہا ہے کہ میں جن کا نگر سیوں سے ملا انہیں ملک کے لئے قربانی کرنے والا دیکھا وہاں میں اس قدر ایزاد کرنا چاہتا ہوں کہ گورنمنٹ کے معاملہ میں میں نے ان کو نہایت سنگدل پایا۔اور میں نے دیکھا کہ انگریزوں کے مارے جانے سے وہ نہایت ہی خوش ہوتے ہیں اور خصوصا دشمن کے مرنے پر۔اور اس کے لئے وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ لڑائی میں دشمن کو مارنا کونسا جرم ہے حالانکہ لڑائی میں تو ہم دشمن کو بھی موقع دیتے ہیں کہ وہ ہمیں مارے۔مگر یہاں تو تاریکی اور بے خبری کے عالم میں دوسرے پر حملہ کیا جاتا ہے۔پس یہ نہایت ہی افسوسناک طرز عمل ہے۔پھر میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بد قسمتی سے گورنمنٹ کو یہ خیال لاحق ہو گیا ہے کہ اس نے کانگرس کی تحریک کو دبادیا ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ ایسی منظم اور دانا گورنمنٹ کو یہ خیال