خطبات محمود (جلد 13) — Page 497
خطبات محمود ۴۹۷ سال ۱۹۳۲ء کر تو وہ دین نہیں تو اور کیا ہے۔اگر ایک شخص نماز اس لئے پڑھتا ہے کہ اس کے دوست کہتے ہیں کہ تو نماز پڑھا کریا یہ کہ اگر اس نے نماز نہ پڑھی تو لوگ اعتراض کریں گے کہ تو بے نماز ہے وہ تو نماز پڑھ کر دنیا کماتا ہے اور دین حاصل نہیں کرتا۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے لوگ حج کو جاتے ہیں مگر اکثر اس لئے جاتے ہیں کہ حاجی کہلائیں اور لوگ ان سے خوش ہو جائیں۔ایسے لوگ بھی دین کا کام کر کے دنیا کماتے اور دین سے دور ہو جاتے ہیں۔میں جب حج کو گیا تو میں نے ایک شخص دیکھا کہ وہ مٹی کو جاتے ہوئے جب خصوصیت سے اس بات کا حکم ہے کہ تسبیح و تحمید کی جائے اللہ تعالی کا ذکر ہو اور عام باتیں نہ کی جائیں نہایت ہی گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جارہا تھا۔اتفاق سے آتے وقت ہم جہاز میں اکٹھے ہو گئے۔میں نے اس وقت دریافت کیا تو وہ کہنے لگا میں حج کے لئے نہیں آتا تھا۔مجھے تو میرے باپ نے مجبور کر کے یہاں بھیج دیا۔وجہ یہ کہ ہمارے ارد گرد جس قدر دکان دار ہیں وہ سب حاجی بن گئے ہیں اور لوگ ان سے زیادہ خرید و فروخت کرتے ہیں۔میرے باپ نے مجھے بھیجا کہ میں بھی حاجی بن جاؤں تالوگ ہمارے ہاں سے مال خریدیں۔اس شخص کی اخلاقی حالت یہاں تک گرمی ہوئی تھی کہ ایک نابینا شخص نے چالیس روپے اس کے پاس امانت رکھے مگر وہ کھا گیا۔حالانکہ وہ مالدار تھا اور جو حالات اس نے بیان کئے ان سے معلوم ہو تا تھا کہ وہ لکھ پتی ہے۔مگر باوجود اس کے وہ ایک اندھے کے چالیس روپے امانت کے کھا گیا اور اسے کچھ بھی حیا نہ آئی بلکہ اپنے آپ کو ایسا دیندار سمجھتا تھا کہ جب اسے پتہ لگا کہ میں کون ہوں اور کہاں کا رہنے والا ہوں تو ایک دن جبکہ میں تختہ جہاز پر ٹہل رہا تھا وہ مجھے دیکھ کر اونچی آواز سے کہنے لگا میں حیران ہوں ایسا شخص اس جہاز پر مل رہا ہے اور پھر بھی یہ جہاز غرق نہیں ہوتا۔مجھے اس میں میں نے دل میں کہا کہ آخر یہ اس بات پر ہنسی آئی خود بھی تو اسی جہاز پر مل رہا ہے۔غرض ایسا مج اگر چہ بظا ہر دین کا کام دکھائی دیتا ہے مگر یہ دین کا کام نہیں بلکہ دنیا کا ہوتا ہے۔اسی طرح بعض دنیاوی کام ہوتے ہیں کہ وہ ایک وقت میں دینی ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیمار ہوئے۔آپ کو بخار اور سخت کھانسی کی تکلیف تھی۔اس قدر کھانسی کہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے یہ سن کر اعلان کر دیا کہ ان کو رسل ہو گئی ہے۔اور یہ اسی مرض سے فوت ہوں گے۔عبدا حکیم کا چونکہ شیطان سے تعلق تھا اور شیطان کا کام ہی ہے کہ وہ جھوٹی خبریں دیا کرتا ہے اور وہ بھی واقعہ کے بعد اس لئے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیمار ہوئے شدید کھانسی اور بخار کی تکلیف ہوئی یہ خبر سن کر عبدالحکیم نے