خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 474

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء اس طرح کے دو طرفہ سلوک کا اس پر یہ اثر ہو گا کہ وہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرے گا۔مگر تم بالکل الٹا کام کر رہے ہو۔جن کا کام تھا کہ وہ ایسے بچوں کو جنگی اصلاح سے وہ عاجز آچکے ہوں گھر سے نکال دیں وہ تو اپنے گھر سے نہیں نکالتے اور جن کا کام یہ ہے کہ وہ انہیں پناہ دیں وہ انہیں گھروں میں نہیں آنے دیتے۔تم جوتی سر پر رکھ کر اور ٹوپی پاؤں میں رکھ کر کبھی دنیا میں عزت کی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔جس کا حق یہ ہے کہ دے اسے دینا چاہئے۔اور جس کا حق ہے کہ لے اسے لینا چاہئے۔لیکن اگر جس کے ذمہ خدا نے یہ مقرر کیا ہے کہ وہ دو سرے کو دے وہ بجائے دینے کے دو سرے کا حق بھی چھینے تو کس طرح امن قائم ہو سکتا ہے۔ہر ایک چیز کا خدا نے الگ الگ فرض مقرر کیا ہے اور چیزیں بے جوڑ ہو کر کبھی نیک نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔پس گند کو دور کرو اور یقینا دور کرو۔اور اگر دور نہیں کرو گے تو آئندہ آنے والی نسلیں تمہیں بد دعائیں دیں گی۔لیکن اس ذریعہ سے دور کرو جو خدا نے مقرر کیا ہے اپنے اندر رفت پیدا کرو۔نرمی اور محبت پیدا کرو۔اور غم سے گداز ہو کر ان آوارہ گرد لڑکوں کے لئے روؤ جو خراب ہو رہے ہیں ان کے لئے خون کے آنسو بہاؤ۔بجائے خونی آنکھیں دکھانے کے اور بجائے لٹھ مارنے کے ان کے آگے کچھ جاؤ تا ان کے دل میں نرمی پیدا ہو۔اور وہ بھی اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں۔مگر تم قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہو۔اور مجھے تعجب آتا ہے کہ اچھے پڑھے لکھے مولوی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ خود تو وہ قانون توڑتے ہیں لیکن دوسروں سے کہتے ہیں کہ قانون نہ توڑیں۔جب تم خدا کے بنائے ہوئے قانون کو تو ڑ کر خود قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے تیار ہو جاتے ہو تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم دوسروں سے یہ کہو کہ وہ تمہارے بنائے ہوئے قوانین کی پابندی کریں۔کیا وہ آگے سے یہ جواب نہ دیں گے کہ کہ جب تم نے خود قانون تو ڑ دیا تو ہمیں کیوں حق نہیں کہ ہم بھی قانون توڑیں۔تم خود تو قانون تو ڑ کر یہ خیال کرتے ہو کہ تم نے کوئی مجرم نہیں کیا۔لیکن اگر کوئی اور قانون توڑ دے تو اسے مجرم قرار دیتے ہو۔پھر کیا قوم میں جو خرابیاں پیدا ہوں خدا کے حضور ان کے لئے تم جوابدہ ہو۔تمہیں خدا نے قوم کا مصلح نہیں بنایا۔پھر تم کون ہو جو قانون کو توڑ کر اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہو۔یہ سلسلہ خدا کا ہے تمہارا نہیں۔اگر تم خدا کے لئے دکھ اٹھاؤ اور مصیبت میں رہتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لو تو وہ خود بخود لوگوں کی اصلاح کی صورت پیدا کر دے گا۔کیا تم سمجھتے ہو خدا کو اپنے بندوں کے متعلق تمہارے جتنی غیرت بھی نہیں ہے۔لیکن اگر تم خود ہی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لو گے تو چاہے تم لڑکوں