خطبات محمود (جلد 13) — Page 466
۔خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء حافظ روشن علی صاحب مرحوم ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔آپ کہتے ایک دفعہ میں نے احمدیہ چوک میں دیکھا کہ جلسہ کے ایام میں ایک دو آدمی ایک طرف سے آرہے تھے اور کوئی پندرہ ہیں آدمی دوسری طرف سے۔وہ کہتے ہیں جو نہی وہ ایک دوسرے کے قریب پہنچے اور ان دونوں گروہوں کی ایک دوسرے پر نگاہ پڑی تو ایک طرف سے آنے والے دوسری طرف سے آنے والوں کی طرف لپک کر بڑھے اور بے اختیار اس طرح چیچنیں مار مار کر رونے لگے جس طرح ایک بے صبر عورت اپنے بچے کی موت پر رویا کرتی ہے۔وہ کہتے مجھے حیرت ہوئی کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ یہ ملے اور ملتے ہی رونے لگ گئے۔میں اسی حالت میں انکے پاس گیا اور انہیں تسلی دی۔میں نے سمجھا شاید بے صبری اس لئے دکھا رہے ہیں کہ ان کا کوئی عزیز فوت ہو چکا ہے اور اس موقع پر اسے یاد کر کے رو پڑے ہیں۔لیکن جب میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا اس رونے کی وجہ کوئی دنیاوی صدمہ نہیں بلکہ اس کا باعث یہ ہے کہ ایک طرف سے جو لوگ زیادہ تعداد میں آرہے تھے وہ کسی زمانہ میں احمدیت کے شدید مخالف تھے اور جو دوسری طرف کے تھے وہ احمدی تھے اور چونکہ ہموطن اور رشتہ دار تھے۔اس لئے ان کی شدید مخالفت کی وجہ سے یہ اپنا وطن چھوڑ دینے پر مجبور ہو گئے تھے۔اور کچھ عرصہ سے آپس میں کوئی تعلق نہ رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے کچھ عرصہ کے بعد ایسے سامان مہیا کر دیئے کہ وہی لوگ جو احمدیت کے شدید ترین مخالف تھے اور جنہوں نے اپنے احمدی رشتہ داروں کو اپنے وطن سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا خود احمدی ہو گئے۔مگر اس کا ان کے احمدی رشتہ داروں کو علم نہ ہوا۔اب جلسہ کے موقع پر جو یہ اچانک ایک دو سرے کے سامنے آئے تو وہ جنہوں نے اپنے عزیزوں پر کسی زمانہ میں ظلم وستم کئے تھے انہیں اپنے ظلم یاد کر کے رونا آگیا۔اور وہ لوگ جنہیں اپنے گھروں سے نکالا گیا تھا انہیں یہ خیال کر کے رونا آگیا کہ وہی لوگ جنہوں نے محض قادیان کی وجہ سے ہمیں اپنے گھروں سے نکالا تھا آج خود قادیان میں چکر لگا رہے ہیں۔تم سوچو آخر وہ لوگ جنہوں نے احمدیت کی خاطر اپنے گھروں سے نکلنا قبول کر لیا وہ اپنے اُن رشتہ داروں کو تبلیغ تو ضرور کرتے ہوں گے سمجھاتے ہوں گے اور سب کچھ جو ان کے بس میں ہوتا ہو گا کرتے ہوں گے مگر اس وقت قلوب کی اصلاح نہ ہوئی اور جب وقت آ گیا تو وہی دشمن جنہوں نے ایک وقت اپنے احمدی رشتہ داروں کو گھروں سے نکال دیا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی اصلاح ہو گئی اور انہوں نے بھی احمدیت کو قبول کر لیا۔حضرت عمرو بن العاص کے متعلق لکھا ہے کہ جس وقت وہ وفات پانے لگے تو انہیں بہت ہی کرب اور