خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 460

خطبات محمود ۴۶۰ سال ۱۹۳۲ء لوگوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا ہے کہ جن دنوں میں درس دینے لگوا ان دنوں میں کثرت سے شامل ہونگے مگر جب کوئی اور درس دے تو اس وقت شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتے اس پر میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے درس میں وہ مجھے سننے کے لئے آتے ہیں نہ کہ قرآن سننے کے لئے اگر قرآن سننے کے لئے آئیں تو دوسرے کے درس میں بھی شامل ہوں۔پس جس درس میں لڑکے شامل ہی نہیں ہوتے اس کو وہ اپنے لئے آڑ کیونکر بنا سکتے ہیں۔قرآن تو انہیں روز بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف آؤ مگر وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں تیری برکت منظور نہیں ہم بغیر قرآن کے ہی اچھے ہیں پس اول تو میری سمجھ میں یہ کبھی نہیں آیا کہ جس درس میں وہ شامل نہیں ہوتے اس سے ان کی پڑھائی میں کیونکر حرج واقعہ ہو سکتا ہے اور اس سال تو میں نے درس نہیں دیا پس یہ سال تو ان کے لئے اچھا تھا وہ بہت اچھی طرح محنت کر سکتے تھے مگر نتیجہ جیسا خراب نکلا وہ ظاہر ہے۔پھر یہ بات بھی میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی کہ استاد کہتے ہیں ہم زیادہ وقت نہیں دے سکتے۔اگر یہ درست ہے تو وہ کس منہ سے دوسروں پر اپنی فضیلت اور دینداری ثابت کر سکتے ہیں کیا وہ یہی کہا کرتے ہیں کہ ہم لوگ بڑے دیندار اور نہایت خدا پرست ہیں کیونکہ ہم اپنی تنخواہ کی گھنٹیوں میں ہی پڑھایا کرتے ہیں ان کے بعد کسی کو نہیں پڑھاتے ہم بڑے متقی اور خدارسیدہ ہیں کیونکہ ہمیں اپنے طالب علموں کی تربیت کا کوئی خیال نہیں ہم بڑے پاک اور صاحب تقویٰ ہیں کیونکہ ہمیں اپنی تنخواہوں کی وصولی کا ہی خیال ہوتا ہے لڑکوں کے اچھے یا برے ہونے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔اور ہم ہی دنیا میں مسلمان جماعت ہیں کیونکہ ہمیں کوئی خیال نہیں ہو تاکہ لڑکے پاس ہوتے ہیں یا لیں۔لیکن تم لوگ چونکہ اپنے طالب علموں کی تعلیم و تربیت پر بہت زور دیتے ہو اس لئے خدا تم سے ناراض ہے تم قطعا اس کے حضور مقبول نہیں کیونکہ تمہارے لڑکے نہایت اعلیٰ نمبروں پر پاس ہوتے ہیں۔کہیں جاکر ذرا یہ تقریر تو کرو کیسی نا معقول ہوگی۔پس اگر استادوں کی یہ حالت ہے تو نہایت ہی افسوسناک ہے۔اور اگر استاد تو کہتے ہیں کہ ہم محنت کرانے کے لئے تیار ہیں مگر ماں باپ اپنی بے جا محبت کی وجہ سے انہیں سکول کے اوقات کے بعد پڑھنے نہیں دیتے تو یہ بھی افسوسناک ہے۔اگر کسی کا بچہ ایک سال پڑھائی میں شامل ہونے کی وجہ سے موسمی چھٹیوں میں گھر نہیں آسکتا تو اس سے انہیں کبیدہ خاطر نہیں ہونا چاہئے۔آخر ایک انگریز ماں کا بھی ویسا ہی کلیجہ ہوتا ہے جیسا ہندوستانی ماں کا۔مگر وہ ایک سال کے لئے نہیں بلکہ بعض دفعہ سالہا سال کے