خطبات محمود (جلد 13) — Page 455
خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۲ء اس کے اندر آ جاتے ہیں۔پس لا اله الا اللہ وہ کلمہ ہے جس کو اسلام نے اجمال کے طور پر ہمارے سامنے رکھا ہے۔اس اجمال میں انسانی زندگی کے تمام مقاصد مخفی ہیں۔اور ہم میں سے جتنی کسی کی سمجھ تیز ہوتی ہے اتنی ہی اس میں سے مفید باتیں نکال لیتا ہے۔اور جتنی کسی کی عقل کمزور ہوتی ہے اسی قدر باتیں اس پر بند رہتی ہیں۔اگر ہم اس کلمہ طیبہ کو اپنے سامنے رکھیں تو ہر قسم کی کمزوریوں اور کو تاہیوں کے بد نتائج سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ہو سکتا ہے بعض لوگ مختلف قسم کی برائیوں میں بتلاء ہو چکے ہوں۔ان کو بھی لا الہ الا الله کام دے سکتا ہے اور اگر بعض روحانی تکالیف آنے والی ہوں تو ان سے بھی انسان بچ جاتا ہے۔یہ ایک نہایت ہی مختصر فقرہ ہے۔مگر اس کے اندر نہایت ہی وسیع مطالب ہیں۔اس کلمہ میں کہا گیا ہے کہ لا الہ الا اللہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی معبود نہیں۔بظاہر کتنی چھوٹی بات نظر آتی ہے اور ہم خیال کرتے ہیں کہ اس کا اتنا ہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہئے اور ہم خیال کرتے ہیں کہ ہمارے بیوی اور بچوں کے تعلقات، دوستوں اور رشتہ داروں کے تعلقات، ہمسایوں اور قرابت والوں کے تعلقات استاد اور شاگرد کے تعلقات ، حکومت اور رعایا کے باہمی تعلقات کا اس لا اله الا الله سے کوئی تعلق نہیں۔حالانکہ ہمارا کوئی کام نہیں خواہ وہ روحانی ہو یا جسمانی۔اقتصادی ہو یا تمدنی جس کا اس لا اله الا اللہ سے تعلق نہیں۔کیونکہ عبودیت کا تعلق محض نماز سے نہیں ہو تا۔اور ہم صرف عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور عبودیت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ہم اپنے ہر فعل سے اللہ تعالٰی کی عبودیت بجا لاتے ہیں اس لئے ہمارے ہر کام کا کلمہ طیبہ سے تعلق ہے۔دنیا میں جس قدر بھی انسانی کام ہوتے ہیں وہ دو رنگ کے ہوتے ہیں یا تو ان میں حکومت کا رنگ پایا جاتا ہے یا تعبد کایا بعض چیزوں میں حاکمانہ رنگ ہوتا ہے یا بعض میں محکومانہ یا ہم بعض چیزوں کے لئے خود خدا بنتے ہیں یا بعض چیزوں کو اپنا خدا بناتے ہیں۔اگر ہم کسی کپڑے کے متعلق یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں میسر نہ آیا تو ہماری زندگی تلخ ہو جائے گی تو دراصل اس کپڑے کو ہم اپنا خدا بناتے ہیں۔اسی طرح اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی بیوی کی فلاں بات نہ مانی تو وہ ہمیں ذلیل کرے گی تو اس کو ہم اپنا خدا بناتے ہیں۔اگر ایک افسر کے متعلق ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ میں نقصان پہنچائے گا تو اس افسر کو اپنا خدا سمجھتے ہیں۔اور اگر افسر یہ خیال کرتا ہے کہ اگر ماتحت نے میری بات نہ مانی تو میں اسے نقصان پہنچاؤں گا تو وہ اپنے آپ کو اس کا خدا قرار دیتا ہے۔اسی