خطبات محمود (جلد 13) — Page 438
محمود ۳۳۸ سال ۱۹۳۲ء سے ہر شخص تو مصافحہ کرنے کے بعد سایہ میں چلا جاتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتا کہ باقی لوگ بھی جو رستہ میں کھڑے ہیں اسے دیکھ کر وہ بھی مصافحہ کے لئے اٹھیں گے اور اس طرح مجھے تکلیف ہوگی۔ایسے احباب کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ وہی چیز جو ایک وقت میں مضر نہیں ہوتی اس کا تواتر اور تسلسل دوسرے وقت میں مضر ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں رسول کریم میں یہ انہیں نقصانات کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ جب میں آؤں تو لوگ کھڑے نہ ہوا کریں " عرب گرم ملک تھا اور پھر صحابہ کی تعداد بھی بڑھ چکی تھی۔وہاں بھی اسی قسم کے واقعات پیش آتے ہوں گے کہ لوگ کھڑے ہو جاتے اور ہوا کے رک جانے کی وجہ سے آپ کو تکلیف محسوس ہوتی ہو گی۔پس ہر کام کے کرتے وقت اس امر کو سوچ لیا کرو کہ اس کا نتیجہ کیسا نکلے گا۔اگر مصافحہ کرنا ہی ہو تو مصافحہ کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ ایسی حالت پیدا کریں جو صحت کے لئے مضر نہ ہو مثلا یہی ہو کہتا ہے کہ وہ کھل کر کھڑے ہو جائیں۔تا ہوا کی آمد ورفت بخوبی رہے۔لیکن انہیں اپنی حالت پر مجھے قیاس نہیں کرنا چاہئے۔وہ جب مصافحہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں تو صاف اور کھلی ہوا میں چلے جاتے ہیں۔لیکن مجھے بدستور اسی تنگ گلی میں سے گزرنا پڑتا ہے جس میں زہریلی ہوا ہوتی ہے۔اور جو صحت انسانی کے لئے سخت مضر ہوتی ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان امور کو مد نظر رکھا کریں۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ ایک دن صحت کو سخت نقصان پہنچانے والی ہوں گی۔پھر مومن کی عقل نہایت تیز ہوتی ہے۔اور وہ چاروں طرف نگاہ دوڑانے کا عادی ہوتا ہے۔اس لئے بھی لوگوں کو چاہئے کہ وہ احتیاط کیا کریں۔مگر کئی ہیں جو کہہ دیتے ہیں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا اگر خیال نہ رکھا جائے تو کیا حرج ہے۔حالانکہ یہ چھوٹی باتیں نہیں ، بلکہ تہذیب و تمدن کی بنیادیں ہیں۔بظاہر یہ کیا ہی معمولی سا حکم معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم میر نے فرمایا جب تم مسجد میں آؤ تو پیاز اور لہسن کھا کر نہ آیا کرو کوئی کے پیاز اور لہسن کھانے میں کیا حرج ہے۔لیکن اگر ہر شخص یہی خیال کرے کہ میرے پیاز کھا لینے سے کیا اندھیر آجائے گا۔اور اس طرح ہر شخص کو اجازت ہو کہ وہ بودار چیزیں کھا کر مسجد میں آئے تو مسجد میں سخت تعفن پیدا ہو جائے گا۔لوگوں کو عموماً یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں ، دوسرے ایسا نہیں کریں گے۔لطیفہ مشہور ہے۔کہتے ہیں کسی شخص نے اپنے مکان کے لئے اینٹیں بنوائیں۔اس کے ہمسائیوں اور دوستوں میں سے ہر ایک نے خیال کیا کہ اگر میں اپنے چولہے کے لئے دو چار اینٹیں لے جاؤں تو قیامت نہ