خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 417

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء قادیان پہنچے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ کیا آپ نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور قرآن سے انکار کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔قرآن کو تو میں مانتا ہوں اور اسلام میرا مذہب ہے۔کہنے لگے الْحَمْدُ لِلہ میں لوگوں سے یہی کہتا رہتا ہوں کہ وہ قرآن کو چھوڑ ہی نہیں سکتے پھر کہنے لگے۔اچھا اگر میں قرآن مجید سے سینکڑوں آئیں اس امر کے ثبوت میں دکھا دوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں تو کیا آپ مان جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا سینکڑوں آیات کا تو کیا ذ کر اگر آپ ایک ہی آیت مجھے ایسی دکھا دیں گے تو میں مان لوں گا۔کہنے لگے الْحَمْدُ لِلہ میں لوگوں سے یہی بخشیں کرتا آیا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب سے منوانا تو کچھ مشکل بات نہیں۔یونہی لوگ شور مچارہے ہیں۔پھر کہنے لگے اچھا سینکڑوں نہ سہی میں اگر تو آیتیں ہی حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کردوں تو کیا آپ مان لیں گے۔آپ نے فرمایا میں نے تو کہہ دیا ہے کہ اگر آپ ایک ہی آیت ایسی پیش کر دیں گے تو میں مان لوں گا۔قرآن مجید کی جس طرح سو آیتیوں پر عمل کرنا ضروری ہے اسی طرح اس کے ایک ایک لفظ پر عمل کرنا ضروری ہے۔ایک یا سو آنتوں کا سوال ہی نہیں۔کہنے لگے اچھا سو نہ سہی پچاس آیتیں اگر میں پیش کردوں تو کیا آپ کا وعدہ رہا کہ آپ اپنی بات چھوڑ دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں آپ ایک ہی آیت پیش کریں میں ماننے کے لئے تیار ہوں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام جوں جوں اس امر پر پختگی کا اظہار کرتے جائیں انہیں شبہ ہو تا جائے کہ شاید اتنی آیتیں قرآن میں نہ ہوں۔آخر کہنے لگے اچھا دس آیتیں اگر میں پیش کردوں تو پھر آپ ضرور مان جائیے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہنس پڑے اور فرمایا میں تو اپنی پہلی ہی بات پر قائم ہوں آپ ایک آیت ایسی پیش کریں۔کہنے لگے اچھا میں اب جاتا ہوں۔چار پانچ دن تک آؤں گا اور آپ کو قرآن سے ایسی آیتیں دکھلا دوں گا۔ان دنوں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور میں تھے اور حضرت خلیفہ اول بھی وہیں تھے اور مولوی محمد حسین بٹالوی سے اس وقت مباحثہ کے لئے شرائط کا تصفیہ ہو رہا تھا جس کے لئے آپس میں خط و کتابت بھی ہو رہی تھی۔مباحثہ کا موضوع وفات مسیح تھا۔مولوی محمد حسین بٹالوی یہ کہتے تھے کہ چونکہ قرآن مجید کی مفتر حدیث ہے اس لئے جب حدیثوں سے کوئی بات ثابت ہو جائے تو وہ قرآن مجید کی ہی بات سمجھی جائے گی اس لئے حدیثوں کی رو سے وفات و حیات مسیح پر بحث ہونی چاہئے۔اور حضرت مولوی صاحب فرماتے کہ