خطبات محمود (جلد 13) — Page 413
خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۳۴ء کہ زیادہ حصہ اس نے کس طرف کا طے کیا ہے تاکہ جس زمین کے قریب ہو اس کے مطابق اسے جزاء دی جائے رسول کریم مالی فرماتے ہیں وہ اس حصہ کے زیادہ قریب تھا جس کی طرف سے اس نے سفر کرنا شروع کیا تھا اور اس حصہ سے دور تھا جہاں اس نے جانا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوئی اور اس نے آگے کے حصہ کے طول کو چھوٹا کر دیا اور جب فرشتوں نے زمین ناپی تو رحمت کے وہ زیادہ قریب نکلا۔پس اس کی روح اللہ تعالی کی رحمت کے ملائکہ اٹھا کر لے گئے۔یہ ایک کشف تھا جس میں یہ واقعہ ہو انادان لوگ یہ خیال نہ کریں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین سمیٹی تو درمیان کے شہر اور گاؤں کہاں چلے گئے ملائکہ کا عالم جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے اور اس میں ہر چیز روحانی نظر سے ہی دیکھی جاتی ہے۔بسا اوقات روحانی عالم میں چھوٹی دکھائی دینے والی چیز جسمانی عالم میں بڑی ہوتی ہے اور بسا اوقات جسمانی عالم میں بڑی نظر آنے والی چیز روحانی عالم میں نہایت معمولی ہوتی ہے۔خواب میں ہی بعض دفعہ انسان دیکھتا ہے کہ اس پر دو دن گزر گئے حالانکہ اسے سوئے ہوئے ایک گھنٹہ ہوا ہوتا ہے اور بعض دفعہ دیکھتا ہے کہ اس نے ایک ہی منٹ کا کوئی نظارہ دیکھا حالانکہ وہ ساری رات سویا ہوتا ہے تو روحانی اور جسمانی عالم میں فرق ہے یہ واقعہ بیان کر کے رسول کریم میں ہم نے ہمیں سمجھایا ہے کہ دنیا میں بدی پر ہمیشہ نیکی غالب رہتی ہے۔اور اللہ تعالی بھی قرآن مجید میں فرماتا ہے لَا تَا نَسُوا مِنْ تَوْعِ اللَّهِ لله الله تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس مت ہو۔اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا خُدا تو سارے گناہوں کو بخش سکتا ہے اب کو نسا آدمی ہے جو اپنی زندگی میں دنیا کے سارے کے سارے گناہ کر لیتا ہے۔ہر شخص گناہوں کے ایک ہی حصہ کا مرتکب ہو تا ہے پس جو ذات اس قدر غفور رحیم ہے۔کہ وہ سارے گناہوں کو بخش سکتی اور انسان کے تمام عیوب سے چشم پوشی کر سکتی ہے وہ کچھ حصہ گناہ کو تو بدرجہ اولی بخش سکتی ہے البتہ انسان کو امید اور یقین رکھنا چاہئے کہ خواہ اس کے کس قدر گناہ کیوں نہ ہوں اللہ تعالی کی طرف وہ جب بھی توجہ کریگا خدا اسے رحمت اور مغفرت کے ساتھ ملے گا۔پس یاد رکھو دنیا کی تمام ترقیات کا مدار امید پر ہے خواہ یہ ترقیات روحانی ہوں یا جسمانی سیاسی ہوں یا اقتصادی۔جو قومیں امید زندہ رکھیں گی وہ کامیاب ہو جائیں گی اور جو امید چھوڑ دیں گی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکیں گی ہماری آنکھوں کے سامنے اس کی ایک موٹی مثال ہندوستان اور جاپان کی ہے جاپان نہایت چھوٹا سا ملک ہے۔آج کل اس کی آبادی چار کروڑ کے قریب ہے۔