خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 400

سال ۱۹۳۲ء رکھنا چاہئے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننا چاہتے ہیں تو وہ ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے آمادہ اور تیار رہیں۔ایک تھوڑی سی بارش جسے دنیا میں لاکھوں افراد کو زندگی عطا کرنی ہوتی ہے اپنے ساتھ تکلیف رکھتی ہے تو وہ فضل جس نے کروڑوں افراد کو اللہ تعالیٰ کے پیاروں میں شامل کرتا ہے اور وہ جنگ جس نے صدیوں تک بے شمار لوگوں کو اللہ تعالی کی حکومت میں داخل کرنا ہے، اپنے ساتھ کتنی تکالیف اور کس قدر خونریزی نہ رکھے گی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ خونریزی اپنی طرف سے ہو یا دشمنوں کی طرف سے یا اللہ تعالی کی طرف سے بطور ابتلاء کے ہو۔کیونکہ کبھی آسمانی ہاتھوں سے تکالیف پہنچتی ہیں اور کبھی بندوں کے ہاتھ سے۔جب اللہ تعالٰی ایسے احکام دیتا ہے جنہیں مخلص لوگ مانتے ہیں تو اس سے انہیں تکلیفیں پہنچتی ہیں اور کبھی دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔لیکن بہر حال جب یہ یقین ہو کہ یہ تکلیفیں ایک عظیم الشان فضل کا پیش خیمہ ہیں تو کوئی عقلمند آدمی ان تکالیف پر کڑھتا نہیں۔کبھی تم نے دیکھا کہ کوئی شخص اس بات پر ناراض ہو کہ بارش تو ہوئی مگر مجھے اپنے گھر میں بیٹھنا پڑ گیا یا میرے کپڑے بھیگ گئے۔کیونکہ وہ جانتا ہے بارش اللہ تعالی کا فضل ہے اور اس فضل کے ساتھ تکلیف کے پہلو بھی لگے ہوئے ہیں۔جب انسان معمولی بارش سے یہ سبق حاصل کرتا ہے تو غور کرو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اللہ تعالی کی طرف سے دنیا کی آخری بارشوں میں سے ایک بارش ہیں اور جو بارش اس لئے برسائی گئی ہے تاکہ ایمان کی کھیتی کو ترقی ہو اور کفر کا بیج نابود ہو جائے ، وہ اپنے ساتھ کس قدر صعوبتیں نہ رکھے گی اور اس کے لئے کتنی بڑی قربانیوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔پس اپنے آپ کو قربانیوں کے لئے تیار کرو اور ان تکالیف کو زحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت یقین کرو اور خوش ہو کہ بلوجود اس کے کہ تمہیں تکلیفیں پہنچ رہی ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں عظیم الشان نعمت دی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ایسا مبارک ہے کہ اس کے دیکھنے کے لئے پہلے انبیاء بھی اپنے دلوں میں حسرتیں لے گئے۔کیونکہ یہ محمدی نور کی بعثت ثانیہ کا زمانہ ہے اور محمدی نور کو پہلے تمام نوروں پر فضیلت تامہ حاصل ہے۔محمدی انوار کا جو پہلا بعث تھا اس میں اللہ تعالٰی نے ہدایت کو تکمیل تک پہنچایا اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں مقدر ہے کہ ہدایت کی اشاعت تکمیل تک پہنچے۔پس ایسی عظیم الشان برکات والے زمانہ میں اگر تمہیں کچھ تھوڑی بہت تکالیف پہنچی ہیں تو یہ حقیقت ہی کیا رکھتی ہیں۔میں ان تکالیف کو تھوڑی بہت اس۔لئے کہتا ہوں کہ پہلے زمانہ میں لوگوں نے ان سے بہت زیادہ قربانیاں کی ہیں۔