خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 395

خطبات محمود ۳۹۵ سال ۲ ہے یا غیر ذی روح جس پر خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت نازل ہوتی ہے اور ماسواء اللہ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس سے مستغنی ہو اور اس کے بغیر زندہ اور قائم رہ سکے وہ در حقیقت باقی تمام مخلوق کے لئے بہتری اور ترقی کے سامان اپنے اندر رکھتی ہے۔یہ بظاہر ایک معمولی بات نظر آتی ہے۔اور ظاہری نظر سے دیکھنے والا انسان اول تو اسکی صداقت میں بھی شبہ کرتا ہے لیکن اگر صحیح بھی سمجھ لے تو خیال کرتا ہے کہ میرا کام اس حد تک ختم ہو جاتا ہے کہ کہہ دوں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے جس کے جاننے سے انسان کی ترقی وابستہ ہے۔اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا غرض کہ ہم سے اپنی حمد کرائے۔اگر ایک حقیر بندہ یہ کہہ بھی دے کہ اللہ تعالیٰ سب تعریفوں کا مالک ہے تو اس سے اس کی کیا شان بڑھ جاتی ہے۔یقینا اس میں بھی ہمارا ہی فائدہ ہے کہ قرآن کریم کی ابتداء الْحَمْدُ لِلہ سے کی گئی۔وہ فائدہ کیا ہے ایک تو یہ کہ دنیا میں جتنی تباہیاں آتی ہیں ان میں سے ستانوے فیصدی بلکہ باقی ایک کا بھی بیشتر حصہ اس میں شامل ہے۔وہ ساری مخفی اسباب سے تعلق رکھتی ہیں۔اور ایک نہایت ہی قلیل کر جو باقی ایک کا اربواں حصہ بھی نہیں ایسا ہے جو ظاہری اسباب سے تعلق رکھتا ہے لیکن انسانی علم چونکہ محدود ہے، اس لئے وہ عام طور پر ظاہری اسباب پر ہی نظر رکھتا ہے اور باطنی کو بھلا دیتا ہے۔اور اگر معلوم بھی کرلے تو اسے مشرکانہ رنگ میں اختیار کرلیتا ہے۔ستاروں کی روشنی اور گردش کے اثر جب انسان پر پڑتے ہیں تو انہیں خدائی رنگ دے لیتا ہے۔ان چیزوں کے متعلق اسے نامکمل سا علم حاصل ہے لیکن اس پر بھی وہ انہیں خدا تعالیٰ کا قائم مقام بنا دیتا ہے۔حتی کہ رسول کریم میں نے فرمایا ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ ستاروں کی گردش سے بارش ہوتی ہے وہ کافر ہے ہے۔وہ یہ خیال کرتا ہے کہ ستاروں میں بارش اتارنے کی طاقت ہے لیکن یہ نہیں جاتا کہ انہیں گردش دینے والی اور ہستی ہے۔گو یا اول تو وہ مخفی اسباب کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا اور اگر کرے بھی تو غلط رستہ پر پڑ جاتا ہے۔اور بجائے اسکے کہ ان پر قابو پانے کی کوشش کرے ، انہیں اپنا آقا قرار دے کر توحید میں نقص لے آتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مخفی اثرات کا دنیا کے نتائج میں حصہ بہت زیادہ ہے۔دنیا کا کوئی فعل اور حرکت ایسی نہیں جو بے فائدہ ہو اور کوئی چیز ایسی نہیں جو دنیا کی عمارت سے وابستہ نہ ہو۔بظاہر مشرقی کو نہ کی اینٹ کا مغربی کو نہ کی اینٹ سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اگر اسے نکال لو تو آہستہ آہستہ ساری عمارت گر جائے گی۔ایک عظیم الشان عمارت میں کسی جگہ رخنہ ڈال دو اور پھر اسے بند نہ کرو تو وہ بڑھتے بڑھتے ساری عمارت کو خراب کر دے گا۔اور جس طرح گوشہ سے نکلی ہوئی ایک